حقیقةُ الوحی — Page 295
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۹۵ حقيقة الوح کے گھر میں دو ماتم ہو نگے اور یہ پیشگوئی نہ صرف میری کتابوں میں درج ہے بلکہ لیکھر ام نے خود اپنی کتاب میں نقل کر کے اپنی قوم میں اس پیشگوئی کی قبل از وقوع شہرت دے دی تھی اور اس پیشگوئی کے مقابل پر اُس نے اپنی کتاب میں میری نسبت یہ لکھا کہ میرے پر میشر نے مجھے یہ الہام کیا ہے کہ یہ شخص (یعنی یہ خاکسار ) تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جائے گا کیونکہ کذاب ہے۔ لیکھرام کا یہ الہام سہ سالہ ایسا ہی تھا جیسا کہ اب میری موت کی نسبت عبد الحکیم خان نے سہ سالہ الہام شائع کیا ہے۔ غرض میری یہ پیشگوئی لیکھرام کے بالمقابل تھی اور بطور مباہلہ کے تھی اور لیکھرام کی اب تک وہ کتابیں موجود ہیں اور آریوں میں بہت شہرت یافتہ ہیں جن میں لیکھرام نے اپنے پر میشر کی طرف منسوب کر کے وہ پیشگوئی لکھی ہے ایسا ہی میری پیشگوئی بھی جس میں لیکھرام کی موت کی نسبت چھ سال قرار دیئے گئے تھے کئی لاکھ انسانوں میں شہرت پا چکی تھی چنانچہ رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفر ۱۳۱۱ ہجری میں یہ پیشگوئی درج کی گئی اور وہ عربی کتاب ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ لیکھرام کی نسبت خدا نے میری دعا قبول کر کے مجھے خبر دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہوگا اور اُس کا جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا تھا اور بُرے لفظوں کے ساتھ تو ہین کرتا تھا۔ یہ کتاب لیکھرام کے مرنے سے پانچ برس پہلے پنجاب اور ہندوستان میں خوب شائع ہو گئی تھی اور پھر اشتہا ر ۲۲ فروری ۱۸۹۳ء میں جو میری کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شامل ہے لیکھرام کی موت سے کئی سال پہلے جملہ لیکھرام شنبہ کے دن قتل کیا گیا تھا اور جمعہ کے روز عید الفطر تھی اور جمعہ خود اسلام میں عید کا دن ہے گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ لیکھرام کے قتل سے پہلے دن مسلمانوں کی دو عید میں ہوں گی اور ان دو عیدوں کے دوسرے دن آریوں کے گھر میں دو ماتم ہوں گے ایک یہ کہ ان کا لیڈر مارا گیا دوسرے یہ کہ ہماری پیشگوئی پوری ہو کر ان کے مذہب کا باطل ہونا ثابت ہوا۔ منہ دیکھو تکذیب براہین احمدیہ صفحہ ۳۰۷ و ۳۱۱۔ اور کلیات آریہ مسافر صفحہ ۵۰۱ جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ تین سال کے اندر آپ کا خاتمہ ہو گا اور آپ کی ذریت میں سے کوئی باقی نہ رہے گا ۔ منہ