حقیقةُ الوحی — Page 259
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۹ حقيقة الوح اور انہوں نے مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی کے استفتاء پر یہ کلمات میری نسبت لکھے تھے کہ ایسا شخص ضال مضل اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور ایسے لوگوں کو مسلمانوں کی قبروں میں دفن نہیں کرنا چاہیے۔ اور اس مولوی نے یہ فتوے دیکر تمام پنجاب میں آگ لگا دی تھی اور لوگ اس قدر ڈر گئے تھے کہ ہم سے مصافحہ کرنے سے بھی بیزار ہو گئے تھے کہ شاید اس قدر تعلق سے بھی ہم کا فر ہو جائیں گے پھر مولوی غلام دستگیر قصوری وہ بزرگ تھے جنہوں نے میرے کفر کے لئے مکہ معظمہ سے کفر کے فتوے منگوائے تھے وہ بھی اپنے یکطرفہ مباہلہ کے بعد انتقال کر گئے افسوس کہ مکہ والوں کو اُن کی اس موت کی خبر نہیں ہوئی تا اپنے فتوے واپس لیتے۔ پھر لودھیانہ کے مفتی مولوی محمد مولوی عبد اللہ مولوی عبد العزیز جنہوں نے کئی دفعہ مباہلہ کے رنگ میں لعنت اللہ علی الکاذبین کہا تھا۔ وہ بھی اس الہام کے بعد گذر گئے ۔ پھر امرتسر کے مفتی مولوی رسل بابا تھے وہ بھی کوچ کر گئے ۔ اسی طرح بہت سے پنجاب کے مولوی اور بعض ہندوستان کے مولوی اس الہام کے بعد اس جہان کو چھوڑ گئے اگر ان سب کی اس جگہ فہرست لکھی جاوے تو وہ بھی ایک رسالہ بنے گا اور اس قدر جو لکھا گیا۔ وہ پیشگوئی کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے اور اگر کوئی اس قدر پر سیر نہ ہو تو ایک لمبی فہرست ہم دے سکتے ہیں۔ ۹۸ ۔ اٹھانواں نشان۔ چند سال ہوئے ہیں کہ سیٹھ عبد الرحمن صاحب تا جر مدراس جو اول درجہ کے مخلص جماعت میں سے ہیں قادیان میں آئے تھے اور اُن کی تجارت کے امور میں کوئی تفرقہ اور پریشانی واقع ہوگئی تھی اُنہوں نے دعا کے لئے درخواست کی ۔ تب یہ الہام ہوا جو ذیل میں درج ہے۔ قادر ہے وہ بارگہ ٹوٹا کام بناوے۔ بنا بنایا توڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے۔ اس الہامی عبارت کا یہ مطلب تھا کہ خدا تعالیٰ ٹوٹا ہوا کام بنا دے گا مگر پھر کچھ عرصہ کے بعد بنا بنایا توڑ دے گا ۔ چنانچہ یہ الہام قادیان میں ہی سیٹھ صاحب کو سنایا گیا اور تھوڑے دن ہی گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ نے اُن کے تجارتی امور میں رونق پیدا کر دی اور ۱۲۴۸