حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 258

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۸ حقيقة الوح دوسرے دن وہ مخط آگیا اور جب میرا خط اُن کو ملا تو وہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے کہ یہ غیب کی خبر کس طرح مل گئی کیونکہ میرے اس راز کی خبر کسی کو نہ تھی ۔ اور اُن کا اعتقاد اس قدر بڑھا کہ وہ محبت اور ارادت میں فنا ہو گئے اور انہوں نے ایک چھوٹی سی یادداشت کی کتاب میں وہ دونوں نشان متذکرہ بالا درج کر دئے اور ہمیشہ اُن کو پاس رکھتے تھے جب میں پٹیالہ میں گیا اور جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے۔ جب وزیر سید محمد حسن صاحب کی ملاقات ہوئی تو اتفاقاً سلسلہ گفتگو میں وزیر صاحب اور نواب صاحب کا میرے خوارق اور نشانوں کے بارہ میں کچھ تذکرہ ہوا تب نواب صاحب مرحوم نے ایک چھوٹی سی کتاب اپنی جیب میں سے نکال کر وزیر صاحب کے سامنے پیش کر دی اور کہا کہ میرے ایمان اور ارادت کا باعث تو یہ دو پیشگوئیاں ہیں جو اس کتاب میں درج ہیں اور جب کچھ مدت کے بعد اُن کی موت سے ایک دن پہلے میں اُن کی عیادت کے لئے لدھیانہ میں اُن کے مکان پر گیا تو وہ بواسیر کے مرض سے بہت کمزور ہورہے تھے اور بہت خون آرہا تھا اس حالت میں وہ اُٹھ بیٹھے اور اپنے اندر کے کمرہ میں چلے گئے اور وہی چھوٹی کتاب لے آئے اور کہا کہ یہ میں نے بطور حرز جان رکھی ہے اور اس کے دیکھنے سے میں تسلی پاتا ہوں اور وہ مقام دکھلائے (۲۴۷) جہاں دونوں پیشگوئیاں لکھی ہوئی تھیں۔ پھر جب قریب نصف کے یا زیادہ رات گذری تو وہ فوت ہو گئے اناللہ وانا اليه راجعون میں یقین رکھتا ہوں کہ اب تک اُن کے کتب خانہ میں وہ کتاب ہوگی ۔ ۹۷۔ ستانواں نشان ۔ یہ ایک پیشگوئی اخبار الحکم اور البدر میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے کہ تخرج الصدور الی القبور۔ اس کے معنوں کی تفہیم خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ہوئی تھی کہ پنجاب کے صدرنشین مولوی جو اپنی اپنی جگہ مفتی سمجھے جاتے ہیں جو ماتحت مولویوں کے استاد اور شیخ ہیں وہ بعد اس الہام کے قبروں کی طرف انتقال کریں گے سو بعد اس کے تمام مولویوں کے شیخ المشائخ مولوی نذیر حسین دہلوی اس دنیا کو چھوڑ گئے وہی میری نسبت سب سے پہلے فتوے دینے والے تھے جنہوں نے میرے کفر کا فتویٰ دیا تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی کے اُستاد تھے