حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 260

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۶۰ حقيقة الوح ایسے اسباب غیب سے پیدا ہوئے کہ فتوحات مالی شروع ہو گئیں اور پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ بنا بنایا کا م ٹوٹ گیا۔ ۹۹ ۔ نانواں نشان ۔ ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ آج حاجی ارباب محمد لشکر خان کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے۔ چنانچہ میں نے دو آریہ شرمیت اور ملا وامل ساکنان قادیان کو صبح کے وقت یعنی ڈاک آنے کے وقت سے بہت پہلے یہ پیشگوئی بتلا دی مگر ان دونوں آریوں نے بوجہ مخالفت مذہبی کے اس بات پر ضد کی کہ ہم تب مانیں گے کہ جب ہم میں سے کوئی ڈاکخانہ میں جاوے اور اتفاقا ڈاکخانہ کا سب پوسٹ ماسٹر بھی ہندو ہی تھا تب میں نے اُن کی اس درخواست کو منظور کیا اور جب ڈاک آنے کا وقت ہوا تو اُن دونوں میں سے ملا وامل آریہ ڈاک لینے کے لئے گیا اور ایک خط لایا جس میں لکھا تھا کہ سرور خان نے مبلغ عملہ بھیجے ہیں۔ اب یہ نیا جھگڑا پیش آیا کہ سرور خان کون ہے کیا وہ محمد لشکر خان کا کوئی قرابتی ہے یا نہیں ۔ اور آریوں کا حق تھا کہ اس کا فیصلہ کیا جاوے تا اصل حقیقت معلوم ہوتب منشی الہی بخش صاحب اکونٹ مصنف عصائے موسیٰ کی طرف جو اُس وقت ہوتی مردان میں تھے اور ابھی مخالف نہیں تھے خط لکھا گیا کہ اس جگہ یہ بحث در پیش ہے اور دریافت طلب یہ امر ہے کہ سرور خان ۲۳۹) کی محمد لشکر خان سے کچھ قرابت ہے یا نہیں چند روز کے بعد منشی الہی بخش صاحب کا ہوتی مردان سے جواب آیا جس میں لکھا تھا کہ سرور خان ارباب لشکر خان کا بیٹا ہے تب دونوں آریہ لا جواب رہ گئے ۔ اب دیکھو یہ اس قسم کا علم غیب ہے کہ عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ بجز خدا کے کوئی اس پر قادر ہو سکے۔ اس پیشگوئی میں دونوں طرف مخالفوں کی گواہی ہے یعنی ایک طرف تو دو آریہ ہیں جن کی نسبت میرا بیان ہے کہ ان کو یہ پیشگوئی میں نے سنائی تھی اور ان میں سے ایک خط لانے کے لئے ڈاک خانہ میں گیا تھا اور دوسری طرف منشی الہی بخش صاحب اکو نٹنٹ ہیں جو ان دنوں لاہور میں ہیں جنہوں نے میری مخالفت میں اپنی کتاب عصائے موسیٰ شائع کی ہے اور جو کچھ چاہا میری نسبت لکھا۔ ہاں میں اس قدر کہتا ہوں کہ اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے ان دو طرفہ گواہوں سے حلفاً پوچھنا چاہیے نہ محض معمولی بیان سے کیونکہ ملاوامل