حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 257

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۵۷ حقيقة الوح حصہ پیشگوئی کا پورا ہو گیا۔ پھر ہم ٹکٹ کا انتظام کر کے ریل پر سوار ہو گئے جب ہم دوراہہ کے اسٹیشن پر پہنچے تو شاید اُس وقت دس بجے رات کا وقت تھا اور وہاں صرف پانچ منٹ کے لئے ریل ٹھیر تی تھی میرے ایک ہمراہی شیخ عبد الرحیم نے ایک انگریز سے پوچھا کہ کیا لودہا نہ آ گیا ؟ اُس نے شرارت سے یا کسی اپنی خود غرضی سے جواب دیا کہ ہاں آ گیا تب ہم مع اپنے تمام اسباب کے جلد جلد اتر آئے ۔ اتنے میں ریل روانہ ہوگئی ۔ اُترنے کے ساتھ ہی ایک ویرانہ سا اسٹیشن دیکھ کر پتہ لگ گیا کہ ہمیں دھو کہ دیا گیا وہ ایسا ویرانہ اسٹیشن تھا کہ بیٹھنے کے لئے چار پائی بھی نہیں ملتی تھی اور نہ روٹی کا سامان ہو سکتا تھا مگر اس امر کے خیال سے کہ اس حرجہ کے پیش آنے سے دوسرا حصہ پیشگوئی کا بھی پورا ہو گیا اس قدر مجھے خوشی ہوئی کہ گویا اس مقام میں کسی نے ہمیں بھاری دعوت دی اور گویا ہر ایک قسم کا خوش مزہ کھانا ہمیں مل گیا ۔ بعد اس کے اسٹیشن ماسٹر اپنے کمرہ سے نکلا ۔ اُس نے افسوس کیا کہ کسی نے ناحق شرارت سے آپ کو حرج پہنچایا اور کہا کہ آدھی رات کو ایک مال گاڑی آئے گی اگر گنجائش ہوئی تو میں اس میں بٹھا دوں گا۔ تب اُس نے اس امر کے دریافت کے لئے تار دی اور جواب آیا گنجائش ہے تب ہم آدھی رات کو سوار ہو کر لو د ہانہ میں پہنچ گئے گویا یہ سفر اسی پیشگوئی کے لئے تھا۔ ۹۶ ۔ چھیانواں نشان ۔ ایک دفعہ نواب علی محمد خان مرحوم رئیس لدھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امور معاش بند ہو گئے ہیں آپ دعا کریں کہ تا وہ کھل جائیں۔ جب میں نے دعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کھل جائیں گے۔ میں نے بذریعہ خط اُن کو اطلاع دے دی۔ پھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کھل گئے اور اُن کو بشدت اعتقاد ہو گیا۔ پھر ایک دفعہ انہوں نے بعض اپنے پوشیدہ مطالب کے متعلق میری طرف ایک خط روانہ کیا اور جس گھڑی اُنہوں نے خط ڈاک میں ڈالا اُسی گھڑی مجھے الہام ہوا کہ اس مضمون کا خط اُن کی طرف سے آنے والا ہے تب میں نے بلا توقف اُن کی طرف یہ خط لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کریں گے