حقیقةُ الوحی — Page 221
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۲۱ حقيقة الوحى مالی مدد کی کہ جس کا شکر یہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے مگر خدا تعالیٰ جوغریبوں کو خاک میں سے اُٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے اُس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شائد اس سے زیادہ ہو اور اس آمدنی کو اس سے خیال کر لینا چاہیے کہ سالہا سال سے صرف لنگر خانہ کا ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہو جاتا ہے یعنی اوسط کے حساب سے اور دوسری شاخیں (۲۱۲) مصارف کی یعنی مدرسہ وغیرہ اور کتابوں کی چھپوائی اس سے الگ ہے۔ پس دیکھنا چاہیے کہ یہ پیشگوئی یعنی الیس الله بکاف عبدہ کی صفائی اور قوت اور شان سے پوری ہوئی۔ کیا یہ کسی مفتری کا کام ہے یا شیطانی وساوس ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ اس خدا کا کام ہے جس کے ہاتھ میں عزت اور ذلت اور ادبار اور اقبال ہے۔ اگر اس میرے بیان کا اعتبار نہ ہو تو میں برس کی ڈاک کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھوتا معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہیں رہی بلکہ ہزار ہا روپیہ کی آمدنی اس طرح ہی ہوتی ہے کہ لوگ خود قادیان میں آکر دیتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔ ۲۳۔ تیئیسواں نشان ۔ ڈپٹی عبداللہ آتھم کی نسبت پیشگوئی ہے جو بہت صفائی سے پوری ہو گئی ہے اور یہ دراصل دو پیشگوئیاں تھیں ۔ اوّل یہ کہ وہ پندرہ مہینے کے اندر مر جائے گا دوسری یہ کہ اگر وہ اپنے اس کلام سے باز آجائے گا جو اُس نے شائع کیا کہ نعوذ باللہ آنحضرت ا حاشیه : اگر چه منی آرڈروں کے ذریعہ ہزار ہا ر و پے آچکے ہیں مگر اس سے زیادہ وہ ہیں جو خود مخلص لوگوں نے آکر دیئے اور جو خطوط کے اندر نوٹ آئے اور بعض مخلصوں نے نوٹ یا سونا اس طرح بھیجا جو اپنا نام بھی ظاہر نہیں کیا اور مجھے اب تک معلوم نہیں کہ اُن کے نام کیا کیا ہیں ۔ منہ