حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 220

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۲۰ حقيقة الوحى اس الہام الہی کے ساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت درد ناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔ در حقیقت یہ امر بار با آزمایا گیا ہے کہ وحی الہی میں دلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور جڑھ اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی الہی پر ہو جاتا ہے۔ افسوس ان لوگوں کے کیسے الہام ہیں کہ جو باوجود دعویٰ الہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے الہام ظنی امور ہیں نہ معلوم یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ ایسے الہاموں کا ضرر اُن کے نفع سے زیادہ ہے مگر میں خدا تعالی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اُسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں کیونکہ اس کے ساتھ الہی چمک اور نور دیکھتا ہوں اور اسکے ساتھ خدا کی قدرتوں کے نمونے پاتا ہوں۔ غرض جب مجھ کو یہ الہام ہوا کہ الیس الله بکاف عبدہ تو میں نے اُسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا تب میں نے ایک ہندو کھتری ملا وامل نام کو جو سا کن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کر دیا اور سارا قصہ اُس کو سنایا اور اُس کو امرتسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اس کو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے اور میں نے اس ہندو کو اس کام کے لئے محض اس غرض سے اختیار کیا کہ تا وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جائے اور تا مولوی محمد شریف بھی گواہ ہو جاوے۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف مبلغ پانچ روپیہ طیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی جو اب تک میرے پاس موجود ہے جس کا نشان یہ ہے ) یہ اُس زمانہ میں الہام ہوا تھا جبکہ ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا اور میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گا نو میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا ۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیشگوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے