حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 190

روحانی خزائن جلد ۲۲ 19+ حقيقة الوحي اے لوگو ! تمہیں یادر ہے کہ میں کا ذب نہیں بلکہ مظلوم ہوں اور مفتری نہیں بلکہ صادق ہوں۔ میرے مظلوم ہونے پر ایک زمانہ گذر گیا ہے۔ یہ وہی بات ہے کہ آج سے ۲۵ برس پہلے خدا نے فرمائی جو براہین احمدیہ میں شائع ہوئی یعنی خدا کا یہ الہام کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ یہ اُس وقت کا الہام ہے جبکہ میری طرف سے نہ کوئی دعوت تھی اور نہ کوئی منکر تھا صرف پیشگوئی کے رنگ میں یہ الفاظ تھے جو مخالف مولویوں نے پورے کئے ۔سواُنہوں نے جو چاہا کیا ۔ اب اس پیشگوئی کے دوسرے فقرے کے ظہور کا وقت ہے یعنی یہ فقرہ کہ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ افسوس کہ جو خدا تعالیٰ کے نشان کھلے طور پر ظاہر ہوئے اُن سے اُنہوں نے کچھ فائدہ نہیں اُٹھایا اور جو بعض نشان سمجھ میں نہیں آئے اُن کو ذریعہ اعتراض بنا دیا۔ اس لئے میں جانتا ہوں کہ اب اس فیصلہ میں دیر نہیں ۔ آسمان کے نیچے یہ بڑا ظلم ہوا کہ ایک خدا کے مامور سے جو چاہا ان لوگوں نے کیا اور جو چاہا لکھا اور یہ عجیب بات ہے کہ عبد الحکیم خان اپنے رسالہ ذکر الحکیم کے پینتالیس صفحہ میں میری نسبت یہ لکھتا ہے ” مجھے آپ کی طرف سے کوئی لغزش نہیں ۔ وہی ایمان ہے کہ آپ مثیل مسیح ہیں ۔ مسیح ہیں مثیل انبیا ء ہیں ۔ “ پھر اسی کتاب ۱۸۴) کے صفحہ ۱۲ میں سطر ۱۵ سے لے کر سطر ۲۰ تک میری تصدیق میں اُس کی اپنی عبارت یہ ہے جو جلی قلم سے لکھی جاتی ہے ۔ ایک مولوی محمد حسن بیگ میرے خالہ زاد بھائی تھے حضور کے سخت مخالف تھے اُن کی نسبت خواب میں مجھے معلوم ہوا کہ اگر وہ مسیح الزمان کی مخالفت پر اڑا رہا تو پلیگ سے ہلاک ہو جائے گا اُس کی سکونت بھی شہر سے باہر ایک ہوادار کشادہ مکان میں تھی یہ خواب میں نے اُس کے حقیقی بھائی اور چچا اور دیگر عزیزوں کو سنا دیا تھا۔ ایک سال بعد وہ پلیگ سے ہی فوت ہوا۔ دیکھو عبد الحکیم خان کا رسالہ ذکر الحکیم صفحہ ۱۲۔