حقیقةُ الوحی — Page 191
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۱ حقيقة الوحي اب دیکھو کہ ایک طرف تو یہ شخص میرے مسیح موعود ہونے کا اقرار کرتا ہے اور نہ صرف اقرار بلکہ میری تصدیق کے بارہ میں ایک خواب بھی پیش کرتا ہے جو بچی تھی۔ پھر اسی کتاب کے آخر میں اور نیز اپنے رسالہ اسیح الدجال میں میرا نام دجال اور شیطان بھی رکھتا ہے اور مجھے خائن اور حرام خوار اور کذاب ٹھیراتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ عبدالحکیم خان نے اپنے ان دونوں متناقض بیانوں میں چند روز کا بھی فرق نہیں رکھا۔ ایک طرف تو مجھے مسیح موعود کہا اور اپنے خواب کے ساتھ میری تصدیق کی اور پھر ساتھ ہی دجال اور کذاب بھی کہہ دیا۔ مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ ایسا کیوں کیا مگر ہر ایک کوسوچنا چاہیے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔ ایک طرف تو مجھے سچا مسیح قرار دیتا ہے بلکہ میری تصدیق میں ایک سچی خواب پیش کرتا ہے جو پوری ہو گئی اور دوسری طرف مجھے سب کافروں سے بدتر سمجھتا ہے کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور تناقض ہوگا اور جن عیبوں کو وہ میری طرف منسوب کرتا ہے اُس کو خود سوچنا چاہیے تھا کہ جب خواب کی رو سے میری سچائی کی اُس کو تصدیق ہو چکی تھی بلکہ میری تصدیق کے لئے خدا نے حسن بیگ کو طاعون سے ہلاک بھی کر دیا تھا تو کیا ایک دجال کے لئے خدا نے اس کو مارا اور کیا خدا کو وہ عیب معلوم نہ تھے جو میں سال کے بعد اُس کو معلوم ہو گئے اور یہ عذر اس کا قابل قبول نہ ہو گا کہ مجھ کو شیطانی خوا میں آتی ہیں اور یہ بھی ایک شیطانی خواب تھی کیونکہ یہ تو ہم قبول کر سکتے ہیں کہ اُس کو بوجہ فطرتی مناسبت کے شیطانی خوا ہیں آتی ہوں گی اور شیطانی الہام اب عبد الحکیم کے لئے لازم ہے کہ محمد حسن بیگ کی قبر پر جا کر رووے کہ اے بھائی تو تکذیب میں سچا تھا اور میں جھوٹا۔ میرا گناہ معاف کر اور خدا سے معلوم کر کے مجھے بتلا کہ ایک کذاب اور دجال کے لئے کیوں اُس نے تجھے ہلاک کر دیا۔ منہ یہ بات بھی غور کے لائق ہے کہ جو شخص بنیں سال تک تحریر اور تقریر میں میری تائید کرتا رہا اور مخالفوں کے ساتھ جھگڑ تا رہا۔ اب میں سال کے بعد کون سی نئی بات اُس کو معلوم ہوئی جو عیب اُس نے لکھے ہیں وہ تو وہی ہیں جن کا جواب وہ آپ دیا کرتا تھا۔ منه