حقیقةُ الوحی — Page 189
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۹ حقيقة الوحي اپنے اندر رکھتا ہوں پھر بجائے غضب کے خدا کی رحمت مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ ہر ایک منصوبہ جو میرے لئے کیا جاتا ہے خدا دشمنوں کو اس میں نامراد رکھتا ہے اور اُن ہزار ہا گنا ہوں اور افتراؤں اور ظلم اور حرامخوریوں کی وجہ سے نہ میرے پر کوئی بجلی گرتی ہے اور نہ میں زمین میں دھنسایا جاتا ہوں بلکہ تمام دشمنوں کے مقابل پر مجھے مددملتی ہے۔ چنانچہ باوجود کئی اُن کے حملوں کے میں بچایا گیا اور باوجود ہزاروں روکوں کے کئی لاکھ تک میری جماعت خدا نے کر دی۔ پس اگر یہ کرامت نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر اس کی نظیر مخالفوں کے پاس موجود ہے تو وہ پیش کریں ورنہ بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ کیا اُن کے پاس پچیس سال کے مفتری کی کوئی نظیر ہے جس کو باوجود اس مدت کے افترا کے صد بانشان تائید اور نصرت الہی کے دئے گئے ہوں (۱۸۳) اور وہ دشمنوں کے ہر ایک حملہ سے بچایا گیا ہو۔فأتوا بها ان كنتم صادقين۔ خلاصہ کلام یہ کہ اب ہمارا اور مخالفوں کا جھگڑا انتہا تک پہنچ گیا ہے اور اب یہ مقدمہ وہ خود فیصلہ کرے گا جس نے مجھے بھیجا ہے۔ اگر میں صادق ہوں تو ضرور ہے کہ آسمان میرے لئے ایک زبر دست گواہی دے جس سے بدن کانپ جائیں اور اگر میں پچیس سالہ مجرم ہوں جس نے اس مدت دراز تک خدا پر افترا کیا تو میں کیونکر بیچ سکتا ہوں ۔ اس صورت میں اگر تم سب میرے دوست بھی بن جاؤ تب بھی میں ہلاک شدہ ہوں کیونکہ خدا کا ہاتھ میرے مخالف ہے کپتان ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں میرے پر خون کا مقدمہ دائر کیا گیا میں اُس سے بچایا گیا بلکہ بریت کی خبر پہلے سے مجھے دے دی گئی اور قانون ڈاک کی خلاف ورزی کا مقدمہ میرے پر چلایا گیا ۔ جس کی سزا چھ ماہ قید تھی اس سے بھی میں بچایا گیا اور بریت کی خبر پہلے سے مجھے دے دی گئی ۔ اسی طرح مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں ایک فوجداری مقدمہ میرے پر چلایا گیا آخر اس میں بھی خدا نے مجھے رہائی بخشی اور دشمن اپنے مقصد میں نا مراد رہے اور اس رہائی کی پہلے مجھے خبر دی گئی۔ پھر ایک مقدمہ فوجداری جہلم کے ایک مجسٹریٹ سنسار چند نام کی عدالت میں کرم دین نام ایک شخص نے مجھ پر دائر کیا اس سے بھی میں بری کیا گیا اور بریت کی خبر پہلے سے خدا نے مجھے دے دی۔ پھر ایک مقدمہ گورداسپور میں اسی کرم دین نے فوجداری میں میرے نام دائر کیا اس میں بھی میں بری کیا گیا اور بریت کی خبر پہلے سے خدا نے مجھے دی اسی طرح میرے دشمنوں نے آٹھ حملے میرے پر کئے اور آٹھ میں ہی نا مرا در ہے اور خدا کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو آج سے پچیس سال پہلے براہین احمدیہ میں درج ہے یعنی یہ کہ ينصرك الله في مواطن۔ کیا یہ کرامت نہیں ؟ ۔ منہ