حقیقةُ الوحی — Page 178
روحانی خزائن جلد ۲۲۔ IZA حقيقة الوحي ہیں کہ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ چند دن بارش رہی اور بہت مینہ برسا۔ میں تم جانے کے بعد میں اپنے کوٹھے پر کسی کام کے لئے چڑھا اور میرا ہمسایہ ایک بڑھا آتش پرست تھا وہ اُس وقت اپنے کوٹھے پر بہت سے دانے ڈال رہا تھا۔ میں نے سبب پوچھا تو اُس نے جواب دیا کہ چند روز سے بباعث بارش پرندے بھوکے ہیں مجھے اُن پر رحم آیا اس لئے میں یہ دانے اُن کے لئے ڈال رہا ہوں تا مجھے ثواب ہو ۔ میں نے جواب دیا کہ اے بڑھے تیرا یہ خیال غلط ہے۔ تو مشرک ہے اور مشرک کو کوئی ثواب نہیں ملتا کیونکہ تو آتش پرست ہے۔ یہ کہہ کر میں نیچے اتر آیا۔ کچھ مدت کے بعد مجھے حج کرنے کا اتفاق ہوا اور میں مکہ معظمہ پہنچا اور جب میں طواف کر رہا تھا تو میرے پیچھے سے ایک طواف کرنے والے نے مجھے میرا نام لے کر آواز دی۔ جب میں نے پیچھے کی طرف دیکھا تو وہی بڑھا تھا جو مشرف باسلام ہو کر طواف کر رہا تھا۔ اُس نے مجھے کہا کہ کیا ان دانوں کا جو میں نے پرندوں کو ڈالے تھے مجھے ثواب ملایا نہ ملا ؟ پس جبکہ پرندوں کو دانہ ڈالنا آخر کھینچ کر اسلام کی طرف لے آتا ہے تو پھر جو شخص اس بچے بادشاہ قادر حقیقی پر ایمان لاوے تو کیا وہ اسلام سے محروم رہے گا ۔ ہر گز نہیں ۔ عاشق که شد که یار بحالش نظر نه کرد اے خواجہ درد نیست وگر نه طبیب ہست یادر ہے کہ اول تو تو حید بغیر پیروی نبی کریم کے کامل طور پر حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ ابھی ہم بیان کر آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات جو اس کی ذات سے الگ نہیں ہوسکتیں بغیر آئینہ وحی نبوت کے مشاہدہ میں آنہیں سکتیں۔ اُن صفات کو مشاہدہ کے رنگ میں دکھلانے والا محض نبی ہوتا ہے۔ علاوہ اس کے اگر بفرض محال حصول اُن کا ناقص طور پر ہو جائے تو وہ شرک کی آلائش سے خالی نہیں جب تک که خدا اسی مغشوش متاع کو قبول کر کے اسلام میں داخل نہ کرے کیونکہ جو کچھ انسان کو ۱۷۴ خدا تعالیٰ سے اُس کے رسول کی معرفت ملتا ہے وہ ایک آسمانی پانی ہے اس میں اپنے فخر اور عجب کو کچھ دخل نہیں لیکن انسان اپنی کوشش سے جو کچھ حاصل کرتا ہے۔ اس میں ضرور کوئی شرک کی آلائش پیدا ہو جاتی ہے۔ پس یہی حکمت تھی کہ تو حید کو سکھلانے کے لئے رسول بھیجے گئے اور