حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 177

روحانی خزائن جلد ۲۲ 122 حقيقة الوحي نجات پاسکتا ہے تو پھر نبی کی تکذیب کچھ بھی گناہ نہیں اور نہ مرتد ہونا کسی کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ پس یادر ہے کہ قرآن شریف میں کوئی بھی ایسی آیت نہیں کہ جو نبی کریم کی اطاعت سے لا پروا کرتی ہو اور اگر بالفرض وہ دو تین آیتیں ان صد با آیتوں کے مخالف ہوتیں تب بھی چاہیے تھا کہ قلیل کو کثیر کے تابع کیا جاتا نہ کہ کثیر کو بالکل نظر انداز کر کے ارتداد کا جامہ پہن لیں۔ اور اس جگہ آیات کلام اللہ میں کوئی تناقض بھی نہیں صرف اپنے فہم کا فرق اور اپنی طبیعت کی تاریکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے لفظ کے وہ معنی کریں جو خدا تعالیٰ نے خود کئے ہیں نہ کہ اپنی طرف سے یہودیوں کی طرح اور معنی بناویں۔ ماسوا اس کے خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے رسولوں کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ وہ ہر ایک سرکش اور سخت منکر کو اس پیرایہ سے بھی ہدایت کیا کرتے ہیں کہ تم صحیح اور خالص طور پر خدا پر ایمان لاؤ۔ اُس سے محبت کرو۔ اُس کو واحد لاشریک سمجھو تب تمہاری نجات ہو جائے گی اور اس کلام سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ پورے طور سے خدا پر ایمان لائیں گے تو خدا ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دے دے گا۔ قرآن شریف کو یہ لوگ نہیں پڑھتے ۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ خدا پر سچا ایمان لانا اُس کے رسول پر ایمان لانے کیلئے موجب ہو جاتا ہے اور ایسے شخص کا سینہ اسلام کو قبول کرنے کیلئے کھولا جاتا ہے اس لئے میرا بھی یہی دستور ہے کہ جب کوئی آریہ یا بر ہمو یا عیسائی یا یہودی یا سکھ یا اور منکر اسلام کج بحثی کرتا ہے اور کسی طرح باز نہیں آتا تو آخر کہہ دیا کرتا ہوں کہ تمہاری اس بحث سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہو گا تم خدا پر پورے اخلاص سے ایمان لاؤ اس سے وہ تمہیں نجات دے گا مگر اس کلمہ سے میرا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بغیر متابعت نبی کریم کے نجات مل سکتی ہے بلکہ میرا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو شخص پورے صدق سے خدا پر ایمان لائے گا خدا اُس کو توفیق بخش دے گا اور اپنے رسول پر ایمان لانے کے لئے اُس کا سینہ کھول دے گا۔ ایسا ہی میں نے تجربہ سے دیکھا ہے کہ ایک نیکی دوسری نیکی کی توفیق بخشتی ہے اور ایک نیک عمل دوسرے نیک عمل کی طاقت (۱۷۳) دے دیتا ہے۔ تذکرۃ الاولیاء میں یہ ایک عجیب حکایت لکھی ہے کہ ایک بزرگ اہل اللہ فرماتے