حقیقةُ الوحی — Page 173
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۷۳ حقيقة الوحي فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَرَ بِهِمْ اور جیسا کہ یہ آیت بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ ہے اور جیسا کہ یہ آیت تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ " الجواب واضح ہو کہ قرآن شریف میں ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اس کے جو رسول پر ایمان لایا جائے نجات ہو سکتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس سے کہ خدائے واحد لاشریک اور یوم آخرت پر ایمان لایا جاوے نجات نہیں ہو سکتی اور اللہ پر ۱۲۹ ) پورا ایمان تبھی ہو سکتا ہے کہ اُس کے رسولوں پر ایمان لاوے ۔ وجہ یہ کہ وہ اس کی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اُس کی صفات کے بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا لہذا بغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالیٰ ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ مثلاً یہ صفات اللہ تعالیٰ کے بقیه حاشیہ میں نے بیعت کی ہے وہ حق پر ہے اور تمام دنیا سے بہتر ہے اور آنے والا مسیح یہی ہے اور عیسی مر گیا تب مولویوں نے شور مچایا کہ کافر ہو گیا کیوں قتل نہ کیا جاوے مگر امیر نے پھر بھی قتل کرنے میں تاخیر کی۔ آخر یہ حجت پیش کی گئی کہ یہ لوگ جہاد کے منکر ہیں کہ اب غیر قوموں سے تلوار کے ساتھ دین کے لئے لڑنا نہیں چاہیے۔ چنانچہ مولوی صاحب نے اس الزام سے انکار نہ کیا اور کہا کہ یہی وعدہ ہے کہ مسیح کو خدا آسمان سے مدد دے گا۔ اب جہاد حرام ہے اور پھر وہ نہایت بے رحمی سے سنگسار کئے گئے اور اُن کے عیال گرفتار کر کے کسی دور دراز گوشہ ریاست کا بل میں پہنچائے گئے اور اُن کی جماعت کے آدمی اس سلسلہ میں داخل ہو گئے ۔ اب حیا اور شرم سے سوچنا چاہیے کہ ایک فاضل جلیل سے جو دنیا اور دین میں عزت رکھتا تھا جس نے میرے لئے جان دی عبد الحکیم کو کیا نسبت ہے اگر وہ مرتد ہو گیا تو ایسے آدمی کے ارتداد سے جو علوم عربیہ سے بالکل محروم ہے دین کو کیا نقصان پہنچا ایسا ہی عمادالدین جو مولوی کہلاتا تھا مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا تھا اس نے اسلام کا کیا بگاڑا تھا تا یہ خیال کریں کہ یہ بھی کچھ بگاڑے گا۔ اسی طرح دھرم پال جو انہیں دنوں میں اسلام سے مرتد ہو گیا اس نے کیا بگاڑا۔ ۔ ☆ منه در کارخانه عشق از کفر ناگزیر است آتش کرا بسوز دگر بولہب نباشد ۔ قرآن شریف میں عادت اللہ ہے کہ بعض جگہ تفصیل ہوتی ہے اور بعض جگہ اجمال سے کام لیا جاتا ہے اور پڑھنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مجمل آیتوں کے ایسے طور سے معنی کرے کہ آیات مفصلہ سے مخالف نہ ہو جائیں مثلاً خدا تعالیٰ نے تصریح سے فرما دیا کہ شرک نہیں بخشا جائے گا مگر قرآن شریف کی یہ آیت کہ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا کے اس آیت سے مخالف معلوم ہوتی ہے جس میں لکھا ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا۔ پس یہ الحاد ہوگا کہ اس آیت کے وہ معنی کئے جائیں کہ جو آیات محکمات بینات کے مخالف ہیں۔ منہ البقرة: ٦٣ البقرة : ١١٣ آل عمران: ۶۵ الزمر : ۵۴