حقیقةُ الوحی — Page 172
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۷۲ حقيقة الوحي سے زیادہ لوگ میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے آج تک تو بہ کر چکے ہیں اور اس قدر سرعت سے یہ کارروائی جاری ہے کہ ہر ایک ماہ میں صد ہا آدمی بیعت میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور ہمارے سلسلہ سے غیر ملکوں کے لوگ بے خبر نہیں ہیں بلکہ ممالک امریکہ اور یورپ کے دور دراز ملکوں تک ہماری دعوت پہنچ گئی ہے یہاں تک کہ امریکہ میں کئی لوگ ہماری جماعت میں داخل ہو چکے ہیں اور خود انہوں نے غیر معمولی زلزلوں کی پیشگوئیوں کو ہمارے نشانوں کا ثبوت دینے کے لئے امریکہ کے نامی اخباروں میں شائع کرایا ہے اور یورپ کے بعض لوگ بھی ہماری جماعت میں داخل ہیں اور اسلامی بلاد کا تو کیا ذکر کریں کہ اب تک جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کچھ زیادہ تین لاکھ سے اس جماعت میں داخل ہو چکے ہیں اور ہزار ہا نشانوں سے لوگ اطلاع پا چکے ہیں اور اکثر ان میں صالح اور نیک بخت ہیں کی سوال(۸) اگر چہ ہمارا ایمان ہے کہ نری خشک تو حید مدار نجات نہیں ہوسکتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے علیحدہ ہو کر کوئی عمل کرنا انسان کو ناجی نہیں بنا سکتا لیکن طمانیت قلب کے لئے عرض پرداز ہیں کہ عبدالحکیم خان نے جو آیات لکھی ہیں ان کا کیا مطلب ہے مثلاً إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرِى وَالطَّبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا حاشیه افسوس کہ ہماری جماعت کی ایمانداری اور اخلاص پر اعتراض کرنے والے دیانت اور راستبازی سے کام نہیں لیتے ۔ اس جماعت میں بعض لوگوں نے اپنی استقامت کے وہ نمونے دکھائے ہیں جن کی اس زمانہ میں نظیر ملنا مشکل ہے مثلاً ایک خدا ترس اور منصف مزاج کو مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی استقامت پر نظر انصاف ڈالنی چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ کیا اس سے بڑھ کر کوئی شخص دنیا میں استقامت کا نمونہ دکھا سکتا۔ لکتا ہے۔ مولوی صاحب موصوف ایک جلیل الشان فاضل علوم عربیہ میں تھے اور تمام عمر حدیث اور تفسیر کے درس میں بسر کی ۱۶۸ تھی اور ان کو الہام بھی ہوتا تھا اور پچاس ہزار کے قریب اُن کے پیرو اور شاگرد تھے اور دنیوکی عزت بھی بہت رکھتے تھے یہاں تک کہ ریاست کابل کے امیروں کی نظر میں ایک بزرگوار اور شیخ الوقت تسلیم کئے گئے تھے اور گورنمنٹ انگریزی اور ریاست میں جا گیر رکھتے تھے انہوں نے میری سچائی مانے پر اپنی جان دے دی۔ اُن کو بہت سمجھایا گیا کہ مجھ سے انکار کریں پر انہوں نے کہا کہ میں نادان نہیں۔ میں بصیرت کی راہ سے ایمان لایا ہوں ۔ میں ان کو ترک نہیں کر سکتا مگر جان کو ترک کروں گا۔ امیر نے کئی دفعہ ان کو سمجھایا کہ آپ بزرگوار ہیں لوگ شورش کرتے ہیں مصلحت وقت سمجھ لیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہوں میں اپنا ایمان ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ میں جانتا ہوں جس سے