حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 174

۱۷۰ روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۷۴ حقيقة الوحي کہ وہ بولتا ہے سنتا ہے پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ رحمت یا عذاب کرنے پر قدرت رکھتا ہے بغیر اس کے کہ رسول کے ذریعہ سے اُن کا پتہ لگے کیوں کر اُن پر یقین آ سکتا ہے اور اگر یہ صفات مشاہدہ کے رنگ میں ثابت نہ ہوں تو خدا تعالیٰ کا وجود ہی ثابت نہیں ہوتا تو اس صورت میں اس پر ایمان لانے کے کیا معنی ہوں گے اور جو شخص خدا پر ایمان لاوے ضرور ہے کہ اُس کے صفات پر بھی ایمان لاوے اور یہ ایمان اُس کو نبیوں پر ایمان لانے کے لئے مجبور کرے گا کیونکہ مثلاً خدا کا کلام کرنا اور بولنا بغیر ثبوت خدا کی کلام کے کیوں کر سمجھ آ سکتا ہے اور اس کلام کو پیش کرنے والے مع اس کے ثبوت کے صرف نبی ہیں۔ پھر یہ بھی واضح ہو کہ قرآن شریف میں دو قسم کی آیات ہیں ایک محکمات اور بینات جیسا کہ یہ آیت إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذلِكَ سَبِيلًا أُولَيكَ هُمُ الْكَفِرُونَ حَقًّا وَاعْتَدْنَا لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا مهينا لے یعنی جو لوگ ایسا ایمان لانا نہیں چاہتے جو خدا پر بھی ایمان لاویں اور اس کے رسولوں پر بھی اور چاہتے ہیں کہ خدا کو اس کے رسولوں سے علیحدہ کر دیں اور کہتے ہیں کہ بعض پر ہم ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں یعنی خدا پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر نہیں یا بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں اور ارادہ کرتے ہیں کہ بین بین راہ اختیار کر لیں یہی لوگ واقعی طور پر کافر اور پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ یہ تو آیات محکمات ہیں جن کی ہم ایک بڑی تفصیل ابھی لکھ چکے ہیں ۔ دوسری قسم کی آیات متشابہات ہیں جن کے معنی باریک ہوتے ہیں اور جو لوگ راسخ فی العلم ہیں اُن لوگوں کو اُن کا علم دیا جاتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ آیات محکمات کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور محکمات کی علامت یہ ہے کہ محکمات آیات خدا تعالیٰ کے کلام میں بکثرت موجود ہیں اور خدا تعالی کا ا النساء : ۱۵۲،۱۵۱