حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 128

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲۸ حقيقة ایمان لایا جائے اور اُن کی اطاعت کی جائے میسر نہیں آسکتا اور صرف تو حید خشک بجز اطاعت ۱۲۵ رسول کے کچھ چیز نہیں بلکہ اُس مردہ کی طرح ہے جس میں روح نہیں ۔ اب یہ بیان کرنا رہ گیا کہ کیا قرآن شریف نے ہمارے بیان کے مطابق انسانی نجات کو اطاعت رسول کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے یا اُس کے بر خلاف قرآنی تعلیم ہے۔ سو اس حقیقت کے سمجھانے کے لئے ہم آیات ذیل پیش کرتے ہیں۔ (۱) قوله تعالى قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ به الجز ونمبر ١٨ سورة نور (ترجمہ) کہہ خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اور یہ مسلم اور بدیہی امر ہے کہ خدا کے احکام سے تخلف کرنا معصیت اور موجب دخول جہنم ہے اور اس مقام میں جس طرح خدا اپنی اطاعت کے لئے حکم فرماتا ہے ایسا ہی رسول کی اطاعت کے لئے حکم فرماتا ہے۔ سو جو شخص اُس کے حکم سے منہ پھیرتا ہے وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کی سزا جہنم ہے۔ (۲) قوله تعالى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَى اللهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ سَمِ عليه (الجزو نمبر ٢٦ سورة حجرات) ترجمہ: اے ایمان والو خدا اور رسول کے حکم سے بڑھ کر کوئی بات نہ کرو یعنی ٹھیک ٹھیک احکام خدا اور رسول پر چلو اور نا فرمانی میں خدا سے ڈرو۔ خدا سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص محض اپنی خشک توحید پر بھروسہ کر کے ( جو دراصل وہ تو حید بھی نہیں ) رسول سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتا ہے اور رسول سے قطع تعلق کرتا ہے اور اس سے بالکل اپنے تئیں علیحدہ کر دیتا ہے اور گستاخی سے قدم آگے رکھتا ہے۔ وہ خدا کا نافرمان ہے اور نجات سے بے نصیب ۔ (۳) قوله تعالى مَنْ كَانَ عَدُوا لِلَّهِ وَمَلَبِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيْكُلَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْكَفِرِينَ (الجز نمبرا سوره بقره) ترجمہ: یعنی جو شخص خدا اور اُس کے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو النور: ۵۵ ۲ الحجرات: ٢ ٣ البقرة : ۹۹