حقیقةُ الوحی — Page 127
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲۷ حقيقة الوح چراغ دین سے بھی بہت بڑھ کر ہے اور گالیاں دینے میں بھی اُس سے زیادہ مشق ہے اور افترا میں اُس سے بڑھ کر قدم ہے۔ اس مشتعل طبع مُشتِ خاک کی ارتداد سے بھی ہمارے مخالف مولویوں کو بہت خوشی ہوئی۔ گویا ایک خزانہ مل گیا مگر اُن کو چاہیے کہ اتنا خوش نہ ہوں اور پہلے (۱۳۴) چراغ دین کو یاد کریں۔ وہ خدا جس نے ہمیشہ اُن کو ایسی خوشیوں سے نامراد رکھا ہے وہی خدا اب بھی ہے۔ اور اس کی پیشگوئی نے جیسا کہ پہلے چراغ دین کے انجام سے خبر دی تھی اسی طرح اُس علیم خبیر نے اس دوسرے چراغ دین یعنی عبد الحکیم کے انجام کی خبر دی ہے پھر خوشی کا کیا مقام ہے ذرا صبر کریں اور انجام دیکھیں۔ اور پھر تعجب کا مقام ہے کہ ایک نادان مرتد کے ارتداد سے اس قدر کیوں خوشی کی جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا ہم پر فضل ہے کہ اگر ایک بدقسمتی سے مرتد ہوتا ہے تو اس کی جگہ ہزار آتا ہے۔ اور پھر ما سوا اس کے کیا کسی مرتد کے ارتداد سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ سلسلہ جس میں سے یہ مرتد خارج ہوا حق نہیں ہے۔ کیا ہمارے مخالف علماء کو خبر نہیں کہ کئی بد بخت حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اُن سے مرتد ہو گئے تھے۔ پھر کئی لوگ حضرت عیسی سے مرتد ہوئے اور پھر کئی بد بخت اور بد قسمت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں آپ سے مرتد ہو گئے چنانچہ مسیلمہ کذاب بھی مرتدین میں سے ایک تھا۔ پس عبد الحکیم مرتد کے ارتداد سے خوش ہونا اور اس کو سلسلہ حقہ کے بطلان کی ایک دلیل قرار دینا ان لوگوں کا کام ہے جو محض نادان ہیں ۔ ہاں یہ لوگ چند روز کے لئے ایک جھوٹی خوشی کا موجب ضرور ہو جاتے ہیں مگر وہ خوشی جلد زائل ہو جاتی ہے۔ یہ وہی عبد الحکیم خان ہے جس نے اپنی کتاب میں میرا نام لے کر یہ لکھا ہے کہ ایک شخص اُن کے دعویٰ مسیح موعود ہونے سے منکر تھا تب مجھ کو خواب میں دکھایا گیا کہ یہ منکر طاعون سے مر جائے گا۔ چنانچہ وہ طاعون سے مر گیا مگر اب خود گستاخی سے مرتد ہو کر گالیاں دیتا اور سخت بد زبانی کرتا اور جھوٹی تہمتیں لگاتا ہے کیا اب طاعون کا وقت جاتا رہا ؟! یہ تو ہم بیان کر چکے کہ وہ امر جس کا نام تو حید ہے اور جو مدار نجات ہے اور جو شیطانی توحید سے ایک علیحدہ امر ہے وہ بجز اس کے کہ وقت کے نبی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر