حقیقةُ الوحی — Page 129
۱۲۹ حقيقة الوح روحانی خزائن جلد ۲۲ خدا ایسے کافروں کا خود دشمن ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص تو حید خشک کا تو قائل ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ہے وہ در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے لہذا بموجب (۱۳۲) منشاء اس آیت کے خدا اُس کا دشمن ہے اور وہ خدا کے نزدیک کا فر ہے تو پھر اس کی نجات کیوں کر ہو سکتی ہے۔ (۴) قوله تعالى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَالْكِتَبِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالكتب الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرُ بِاللهِ وَمَلَكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَللًا بَعِيدات (الجر ونمبر ۵ سورة نساء) ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا پر ایمان لاؤ۔ اور اُس کے رسول پر اور اس کی اس کتاب پر جو اُس کے رسول پر نازل ہوئی ہے یعنی قرآن شریف پر اور اُس کتاب پر ایمان لاؤ جو پہلے نازل ہوئی یعنی تو ریت وغیرہ پر ۔ اور جو شخص خدا پر اور اُس کے فرشتوں پر اور اُس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لائے گا وہ حق سے بہت دور جاپڑ ا یعنی نجات سے محروم رہا۔ (۵) قوله تعالى وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَاقَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ الله وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَللًا مُّبِينًا الجز ونمبر ۲۲ سورۃ احزاب ترجمہ: کسی مومن یا مومنہ کو جائز نہیں ہے کہ جب خدا اور اُس کا رسول کوئی حکم کرے تو ان کو اس حکم کے رو کرنے میں اختیار ہو۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ حق سے بہت دور جا پڑا ہے یعنی نجات سے بے نصیب رہا کیونکہ نجات اہل حق کے لئے ہے۔ (۶) قوله تعالى وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ لمهين کالجز و نمبر ٢ سورة نساء ترجمہ: جو شخص خدا اور رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے باہر ہو جائے خدا اُس کو جہنم میں داخل کرے گا اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا اور اُس پر ذلیل کرنے والا عذاب نازل ہوگا۔ اب دیکھو کہ رسول سے قطع تعلق کرنے میں اس سے بڑھ کر اور کیا وعید ہو گا کہ خدائے عز و جل فرماتا ہے کہ جو شخص رسول کی نافرمانی کرے اُس کے لئے دائمی جہنم کا وعدہ ہے مگر میاں عبد الحکیم ل النساء: ۱۳۷ الاحزاب : ۳۷ النساء : ۱۵