حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 113

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۱۳ حقيقة الوح اور اُن کے وجود کی کوئی بڑی بھاری ضرورت نہ تھی۔ اور اگر یہ سچ تھا کہ صرف خدا کو واحد لا شریک کہنا ہی کافی ہے تو گویا یہ بھی ایک شرک کی قسم ہے کہ لا إِلهَ إِلَّا الله کے ساتھ مُحَمَّد رسول اللہ لازمی طور پر ملایا گیا اور در حقیقت اس خیال کے لوگ محمد رسول اللہ کہنا شرک ہی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کامل تو حید اسی میں تصور کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کا نام نہ ملایا جائے اور ان کے نزدیک دین اسلام سے خارج ہونا نجات سے مانع نہیں اور اگر مثلا ایک ہی دن میں سب کے سب مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار کر کے گمراہ فلسفیوں کی طرح مجرد توحید کو کافی سمجھیں اور اپنے تئیں قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے مستغنی خیال کر لیں اور مکذب ہو جائیں تو اُن کے نزدیک یہ سب لوگ باوجود مرتد ہونے کے نجات پاجائیں گے اور بلاشبہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ مگر یہ بات کسی ادنی عقل والے پر بھی پوشیدہ نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ سے ہمارے اس زمانہ تک تمام اسلامی فرقوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام کی حقیقت یہی ہے کہ جیسا کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کو واحد لا شریک سمجھتا ہے اور اس کی ہستی اور وجود اور وحدانیت پر ایمان لاتا ہے ایسا ہی اُس کے لئے ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لاوے۔ اور جو کچھ قرآن شریف میں مذکور و مسطور ہے سب پر ایمان رکھے۔ یہی وہ امر ہے جو ابتدا سے مسلمانوں کے ذہن نشین کر دیا گیا ہے اور اسی پر محکم عقیدہ رکھنے کی وجہ سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنی جانیں دیں۔ اور کئی صادق مسلمان جو کفار کے ہاتھ میں عہد نبوی میں گرفتار ہو گئے تھے اُن کو بار بار یہ فہمائش کی گئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر ہو جاؤ تو تم ہمارے ہاتھ سے رہائی پاؤ گے لیکن انہوں نے انکار نہ کیا اور اسی راہ میں جان دی۔ یہ باتیں اسلام کے واقعات میں ایسی مشہور ہیں کہ جو شخص ایک ادنیٰ جبکہ وہ اپنے سخت دشمنوں اور مذبوں اور اہانت کر نیوالوں کو بہشت کے تختوں پر بیٹھے دیکھیں گے اور اپنی طرح ہر ایک قسم کی ناز و نعمت میں اُنکو پائیں گے اور ممکن ہے کہ اسوقت بھی وہ لوگ ٹھٹھا کر کے نبیوں کو کہیں کہ تمہاری تکذیب اور توہین نے ہمارا کیا بگا ڑا۔ تب بہشت میں رہنا نبیوں پر تلخ ہو جائے گا۔ منہ