حقیقةُ الوحی — Page 114
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۱۴ حقيقة ا واقفیت بھی اسلامی تاریخ سے رکھتا ہو گا اُس کو ہمارے اس بیان سے انکار نہیں ہوگا۔ اور پھر یہ بھی یادر ہے کہ اگر چہ اسلامی لڑائیاں مدافعت کے طور پر تھیں یعنی ابتدا ان کی کفار کی طرف سے تھی اور کفارِ عرب اپنے حملوں سے باز نہیں آتے تھے اس خوف سے کہ مبادا دین اسلام جزیرہ عرب میں پھیل جائے اور اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے ساتھ لڑنے کا حکم ہوا تھا۔ تا مظلوموں کو ان فرعونوں کے ہاتھ سے رہائی بخشیں مگر اس میں بھی کچھ شبہ نہیں کہ پھر بھی اگر کفار کو یہ پیغام دیا جاتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ماننا کچھ ضروری نہیں اور آنجناب پر ایمان لانا کچھ شرط نجات نہیں صرف اپنے طور پر خدا کو واحد لا شریک سمجھو گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکذب اور مخالف اور دشمن رہو اور اس بات کی ضرورت نہیں کہ ان کو اپنا سردار اور پیشوا سمجھ لو تو اس سے اس قدر خونریزی کی نوبت نہ آتی بالخصوص یہودی جو خدا کو واحد لاشریک سمجھتے تھے کیا وجہ کہ اُن سے لڑائیاں کی گئیں یہاں تک کہ بعض موقعوں میں کئی ہزار یہودی گرفتار کر کے ایک ہی دن میں قتل کئے گئے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر صرف توحید نجات کے لئے کافی تھی تو یہودیوں سے خواہ مخواہ لڑائیاں کرنا اور اُن میں سے ہزاروں کو قتل کرنا یہ فعل سراسر نا جائز اور حرام تھا۔ پھر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کے کیوں مرتکب ہوئے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا علم نہ تھا؟ اور اگر خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ تمام نبی یہی سکھلاتے آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک مانو اور ساتھ اس کے ہماری رسالت پر بھی ایمان لاؤ۔ اسی وجہ سے اسلامی تعلیم کا اِن دو فقروں میں خلاصہ تمام اُمت کو سکھلایا گیا کہ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله۔ یہ بھی یا دور ہے کہ خدا کے وجود کا پتہ دینے والے اور اُس کے واحد لاشریک ہونے کا علم لوگوں کو سکھلانے والے صرف انبیاء علیہم السلام ہیں۔ اور اگر یہ مقدس لوگ دنیا میں نہ آتے تو صراط مستقیم کا یقینی طور پر پانا ایک متنع اور محال امر تھا اگر چہ زمین و آسمان پر غور کر کے