حقیقةُ الوحی — Page 112
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۱۲ حقيقة الوح کے متفرق مقامات میں ان بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے لیکن ان دنوں میں عبد الحکیم خان نام ایک شخص جو پٹیالہ کی ریاست میں اسٹنٹ سرجن ہے جو پہلے اس سے ہمارے سلسلہ بیعت میں داخل تھا مگر باعث کمی ملاقات اور قلت صحبت دینی حقائق سے محض بے خبر اور محروم تھا اور تکبر اور جہل مرکب اور رعونت اور بدظنی کی مرض میں مبتلا تھا اپنی بدقسمتی سے مرتد ہو کر اس سلسلہ کا دشمن ہو گیا ہے اور جہاں تک اس سے ہو سکا خدا کے نور کو معدوم کرنے کے لئے اپنی جاہلانہ تحریروں میں زہریلی پھونکوں سے کام لے رہا ہے تا اس شمع کو بجھاوے جو خدا کے ہاتھ سے روشن ہے اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ اختصار کے لحاظ سے بعض اس کے ایسے اعتراضات کا جواب لکھ دیا جائے جو عوام کو مطلع کرنے کے لئے قابل جواب ہیں کیونکہ عوام پر یہ امر باعث غفلت اور مشغولی دنیا کے البتہ مشکل ہے کہ تمام میری کتابیں تلاش کر کے اُن میں سے یہ جواب معلوم کر لیں۔ سو پہلے وہ امر لکھنے کے لائق ہے جس کی وجہ سے عبد الحکیم خان ہماری جماعت سے علیحدہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ نجات اخروی حاصل کرنے کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک جو خدا کو واحد لاشریک جانتا ہے ( گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ہے ) وہ نجات پائے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اُس کے نزدیک ایک شخص اسلام سے مرتد ہو کر بھی نجات پاسکتا ہے اور ارتداد کی سزا دینا اُس کو ظلم ہے۔ مثلاً حال میں ہی جو ایک شخص عبد الغفور نام مرتد ہو کر آریہ سماج میں داخل ہوا اور دھرم پال نام رکھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین اور تکذیب میں دن رات کمر بستہ ہے وہ بھی عبد الحکیم خان کے نزدیک سیدھا بہشت میں جائے گا کیونکہ آریہ لوگ بت پرستی سے دستکش ہیں مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسے عقیدہ کی رو سے انبیاء علیہم السلام کا مبعوث ہونا محض بیہودہ اور لغو کام ٹھیرے گا کیونکہ جب ایک شخص انبیاء علیہم السلام کا مکذب اور دشمن ہو کر بھی خدا کو ایک جاننے سے نجات پاسکتا ہے تو پھر اس ☆ ۱۱۰ صورت میں گویا انبیاء صرف عبث طور پر دنیا میں بھیجے گئے ورنہ اُن کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ وہ لوگ جو انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کرنے والے اور اُن کے دشمن ہیں محض اپنی خیالی توحید سے نجات پا جائیں گے تو بجائے اس کے کہ ان کفار کو قیامت میں کوئی عذاب ہوا نبیا ء خود ایک قسم کے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے ۔