حَمامة البشریٰ — Page 354
احادیث بالمعنی /تشریح احادیث احادیث کی قبولیت میں مسلمان فرقوں کا اختلاف ہے ۳۱،۳۲ تمام احادیث احاد ہیں ، نہ رسول اللہﷺ نے احادیث جمع کیں نہ صحابہ کرام نے۔نہ ہی اس کی حفاظت کا وعدہ قرآن کریم کی حفاظت کی طرح ہے ۲۱۷ احادیث کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے لئے اصولی قانون یہ ہے کہ اسے قرآن کریم کے سامنے پیش کیا جائے ۲۱۸، ۲۱۹ رسول کریم ﷺکی وفات کے وقت زمین کادعا کرنا کہ اورخدا تعالیٰ کا وحی فرمانا کہ میں انبیاء جیسے لوگ پیدا کروں گا ۱۵ اللہ تعالیٰ کا ابن آدم کو فرمانا کہ میری اطاعت کرمیں تجھے اس طرح کر دوں گا کہ تو بھی کن کہے گا تو وہ کام ہونے لگے گا ۶ ۲ ح ایک موقع پر رسول اکرمﷺ کا خواب میں اپنی تلوارٹوٹتے دیکھنا اور اس سے مراد ۱۹۰ ح ہر نبی نے اپنے سے پہلے نبی سے کم از کم نصف عمر پائی اور حضرت عیسیٰ ؑ نے ایک سو بیس سال عمر پائی ۲۰۷ ح آج کے دن جو بھی جان زندہ ہے وہ سوسال کے اندر وفات پا جائے گی ۱۹۱،۱۹۲ح نزول مسیح سے متعلق احادیث میں تناقض ۲۰۵،۲۰۶ح مسلم کی دمشقی حدیث جس میں نزول مسیح کا ذکر ہے اس کی ظاہر تفسیر قرآن کریم کی آیات کے خلاف ہے ۳۲ دجال سے متعلق احادیث میں تناقض ۱۹۱ح حدیث میں دجال کے مشرق کی طرف سے آنے اور مدینہ جانے اور پھر شام میں ہی ہلاک ہونے اور چالیس سال زمین میں رہنے کا ذکر ہے ۱۸۷ح رسول اکرم ﷺکی احادیث جن کی آنحضرت ﷺ نے تاویل کی ۱۹۰،۱۹۱ح وفات مسیح ،نزول مسیح و مہدی کے بارہ میں مختلف احادیث اور ان کے بظاہر تناقض کا حل ۲۰۰ تا ۲۰۲ ح جن احادیث میں تذکرہ ہے کہ دجال علم الغیب جانتا ہے یہ احادیث رسول کریم ﷺکی نہیں ہیں ۱۸۸ ح ح اگر احادیث کے ظاہری معنی لئے جائیں تو رسول اکرم ﷺ کی حدیث سے دجال کی موت ثابت ہو جاتی ہے ۱۹۱،۱۹۲ح احادیث میں بیان مسیح موعود کی تین علامات ۲۰۶،۲۱۰ جب میرا رب مجھ سے میری امت کے بگاڑ کے بارے میں پوچھے گا تو میں وہی جواب دوں گا جو خدا کے نیک بندے نے مجھ سے قبل عرض کیا ۲۰۸ ،۲۰۹ح نسخہ بخاری میں درج الفاظ یضع الجزیۃ درست نہیں کیونکہ آنے والا مسیح یضع الحرب کرے گا ۲۱۰ ،۲۱۱ح بعض احادیث میں ذکر ہے کہ دجال نوع انسان میں سے نہ ہوگا بلکہ شیطان کے گروہ میں سے ہو گا ۲۲۴ح مسیح مشرقی ملک ہند میں ظاہر ہو گا اور پھر مسیح موعود یا اس کے خلفاء میں سے کوئی دمشق کا سفر کریں گے۔اس سے مراد ۲۲۵ تفسیر مظہری کا مصنف، لکھتاہے کہ ابوہریرہؓ نے آیت کریمہ وان من اھل الکتاب۔۔۔کی تاویل میں غلطی کی ہے ۲۴۰ آیت کریمہ ان من اھل الکتاب کی قرأت ثانیہ قبل موتھم ہے۔یہ تاویل قرآن کریم کے مطابق ہے ۲۴۱ آپ ﷺکے فرمان :انی لا اُترک میتاً فی قبری۔۔۔۔بل اُحیی و اُرفع الی السماء سے حیات روحانی مراد لی جاتی ہے ۲۲۰،۲۲۱