گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxx
حاصل ہے جس سے وہ اپنے مخالفوں پر فتحیاب ہونے کی امید کر سکیں -‘‘ (الاقتصاد صفحہ ۴۲) اور خواجہ حسن نظامی دہلوی لکھتے ہیں:۔’’جہاد کا مسئلہ ہمارے ہاں بچّے بچّے کو معلوم ہے۔وہ جانتے ہیں کہ جب کفار مذہبی امور میں حارج ہوں اور امام عادل جس کے پاس حرب و ضرب کا پورا سامان ہو لڑائی کا فتویٰ دے تو جنگ ہر مسلمان پر لازم ہو جاتی ہے۔مگر انگریز نہ ہمارے مذہبی امور میں دخل دیتے ہیں۔نہ اور کسی کام میں ایسی زیادتی کرتے ہیں جس کو ظلم سے تعبیر کر سکیں۔نہ ہمارے پاس سامانِ حرب ہے۔ایسی صورت میں ہم ہرگز ہرگز کسی کا کہنا نہ مانیں گے۔اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں گے-‘‘ (رسالہ شیخ سنوسی صفحہ ۱۷ مؤلفہ خواجہ حسن نظامی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور سے بلکہ آپ کی ولادت سے بھی قبل ایک موقعہ جہاد کا پیدا ہوا اور حضرت سید احمد بریلوی مجدد تیرھویں صدی نے پنجاب کے سکھوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔کیونکہ جیسا کہ مولوی مسعود احمدندوی لکھتے ہیں: - ’’اُس وقت پنجاب میں سکّھا شاہی کا زور تھا۔مسلمان عورتوں کی عصمت و آبرو محفوظ نہ رہی تھی۔ان کا خون حلال ہو چکا تھا۔گائے کی قربانی ممنوع تھی۔مسجدوں سے اصطبل کا کام لیا جا رہا تھا۔غرض مظالم کا ایک بے پناہ سیلاب تھا جو پانچ دریاؤں کی مسلم آبادی کو بہائے لئے جا رہا تھا۔آنکھیں سب کچھ دیکھتی تھیں مگر قوائے عمل مفلوج ہو چکے تھے-‘‘ (ہندوستان کی پہلی تحریک صفحہ ۳۷-۴۵) سید صاحب مرحوم کی شہادت اور اُن کی شکست کی وجہ یہ لکھتے ہیں: - ’’اپنی بدنصیبی کا ماتم کن لفظوں میں کیا جائے دل میں ایک ہُوک اٹھتی ہے اور آنکھوں میں خون اُتر آتا ہے۔جب کبھی ملاّنوں کے فتوے اور خوانین سرحد کی غداری یاد آتی ہے … جاہل ملاّنوں نے مجاہدین کو وہابی کہنا شروع کیا جن کی اصلاح و بہبودی اور امداد و معاونت کے لئے اس بے برگ و نواسیّد زادے اور اس کے جاں نثاروں نے ہجرت کی مشقتیں گوارا کیں وہ خود جان کے دشمن ہو گئے۔