گورنمنٹ انگریزی اور جہاد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxi of 615

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxxi

کھانے میں زہر بھی دیا گیا۔پشاور فتح ہو چکا تھا مگر سردارانِ پشاور کی غداری کے باعث سیّد صاحب کے مقرر کردہ عمال اور خاص اصحاب کا قتل عام ہوا۔اور پھر اتنی بددلی ہوئی کہ وہ نواح پشاور کو چھوڑ کر وادیٔ کاغان سے متصل راج دواری کی وادی کو منتقل ہو گئے …… اور آخر بالا کوٹ میں شہید ہوئے-‘‘ ۱؎ (ہندوستان کی پہلی تحریک صفحہ ۴۷) اسی لئے مولوی محمد حسین بٹالوی نے لکھا: - ’’بھائیو! اب سیف کا وقت نہیں رہا۔اب بجائے سیف قلم سے کام لینا ضروری ہو گا-مسلمانوں کے ہاتھ میں سیف کا آنا کیونکر ممکن ہے جبکہ ان کا ہاتھ ہی ندارد ہے۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا جانی دشمن ہے۔شیعہ سُنی کو اور ُسنی شیعہ کو اہلحدیث اہلِ تقلید کو وعلیٰ ہذا القیاس ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو اسی نگاہ سے دیکھ رہا ہے-‘‘ (اشاعۃ السنہ جلد ۶ نمبر ۱۲ صفحہ ۳۶۵) پس آپؑ نے شرائط جہاد کی عدم موجودگی کی وجہ سے شریعت اسلامیہ کے مطابق شرعی جہاد بالسیف کو ممنوع قرار دیا تھا- تیسری وجہ آپ نے منع جہاد بالسیف کی یہ بیان فرمائی کہ خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں ظاہر ہو گا جبکہ مذہبی آزادی ہو گی اور مذہب کے لئے جنگ اور لڑائی کی ضرورت نہ ہو گی۔چنانچہ حضور اسی رسالہ ’’‘‘ میں فرماتے ہیں: - ’’تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے مُنہ سے کلمہ یضع الحرب جاری ہو چکا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعود جب آئے گا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا۔اور اسی کی طرف اشارہ اس قرآنی آیت کا ہے۔۱؎ ان کی جہاد سے غرض پنجاب کے مسلمانوں کو سکھوں کی جابرانہ و مستبدانہ حکومت سے نجات اور مذہبی آزادی دلانا تھا وہ اس رنگ میں پوری ہو گئی کہ سکھوں کی جگہ انگریز پنجاب کے حاکم ہو گئے اور جیسا کہ مولانا محمد جعفر تھا نیسری لکھتے ہیں:۔’’سید صاحب کاسرکار انگریزی سے جہاد کرنے کا ارادہ ہرگز نہیں تھا وہ اس آزاد عملداری کو اپنی عملداری سمجھتے تھے۔‘‘ (سوانح احمدی کلاں صفحہ ۱۳۹)