گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page xxix
اور فرمایا: - ’’وامرنا ان نعد للکافرین کما یعدون لنا ولا نرفع الحسام قبل ان نقتل بالحسام‘‘ (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۴۵۴) اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم کافروں کے مقابل میں اُسی قسم کی تیاری کریں جیسی وہ ہمارے مقابلہ کے لئے کرتے ہیں یا یہ کہ ہم کافروں سے ویسا ہی سلوک کریں جیسا وہ ہم سے کرتے ہیں۔اور جب تک وہ ہم پر تلوار نہ اٹھائیں اس وقت تک ہم بھی اُن پر تلوار نہ اُٹھائیں - اور فرمایا: - ’’وَلَاشَکَّ اَنَّ وُجُوْہَ الْجِہَادِ مَعْدُوْمَۃٌ فِی ہٰذَا الزَّمَنِ وَ ھٰذِہِ الْبِلَادِ‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۸۲) اور اس میں شک نہیں کہ جہاد کی وجوہ یا شرائط اس زمانہ اور ان شہروں میں نہیں پائی جاتیں - یہی بات نواب مولوی صدیق حسن خان نے ’’ترجمان وہابیہ‘‘صفحہ ۲۰ میں لکھی ہے: - ’’جہاد بغیر شرائطِ شرعیہ کے اور بغیر وجود امام کے ہرگز جائز نہیں -‘‘ اور مولوی ظفر علی خان لکھتے ہیں: - ’’اسلام نے جب کبھی جہاد کی اجازت دی ہے۔مخصوص حالات میں دی ہے۔جہاد ملک گیری کی ہوس کا ذریعہ تکمیل نہیں ہے …… اس کے لئے امارت شرط ہے۔اسلامی حکومت کا نظام شرط ہے۔دشمنوں کی پیش قدمی اور ابتداء شرط ہے-‘‘ (زمیندار ۱۴؍ جون ۱۹۲۶ء) اور مولوی محمد حسین بٹالوی لکھتے ہیں: - ’’ایک بڑی بھاری شرط شرعی جہاد کی یہ ہے کہ مسلمانوں میں امام و خلیفۂ وقت موجود ہو …… مسلمانوں میں ایسی جمعیت حاصل و جماعت موجود ہو جس میں ان کو کسرِ شوکتِ اسلام کا خوف نہ ہو فتح و غلبۂ اسلام کا ظن غالب ہو-‘‘ (الاقتصاد فی مسائل الجہاد صفحہ ۳۱) اور لکھتے ہیں: - ’’اِس زمانہ میں شرعی جہاد کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت نہ کوئی مسلمانوں کا امام موصوف بصفات و شرائط امامت موجود ہے اور نہ ان کو ایسی شوکتِ جمعیت