چشمۂ مسیحی — Page 377
روحانی خزائن جلد ۲۰ چشمه مسیحی یعنی وہ تین خدا مانتے ہیں یعنی باپ، بیٹا ، روح القدس اور یہ جواب ان کا سراسر فضول ہے کہ ہم تین کو ایک جانتے ہیں۔ ایسے بیہودہ جواب کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کر سکتا جبکہ یہ تینوں خدا مستقل طور پر علیحدہ علیحدہ وجود رکھتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ پورے خدا ہیں تو وہ کون سا ﴿۵۳﴾ حساب ہے جس کے رو سے وہ ایک ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کا حساب کس سکول یا کالج میں پڑھایا جاتا ہے کیا کوئی منطق یا فلاسفی سمجھا سکتی ہے کہ ایسے مستقل تین ایک کیونکر ہو گئے اور اگر کہو کہ یہ راز ہے کہ جو انسانی عقل سے برتر ہے تو یہ دھوکا دہی ہے کیونکہ انسانی عقل خوب جانتی ہے کہ اگر تین کو تین کامل خدا کہا گیا تو تین کامل کو بہر حال تین کہنا پڑے گا نہ ایک ۔ اور اس تثلیث کے عقیدہ کو نہ صرف قرآن شریف رد کرتا ہے بلکہ تو ربیت بھی رد کرتی ہے کیونکہ وہ تو ریت جو موسٹی کو دی گئی تھی اس میں اس تثلیث کا کچھ بھی ذکر نہیں ۔ اشارہ تک نہیں ورنہ ظاہر ہے کہ اگر توریت میں بھی ان خداؤں کی نسبت تعلیم ہوتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ یہودی اس تعلیم کو فراموش کر دیتے کیونکہ اول تو یہودیوں کو تو حید کی تعلیم یا د ر کھنے کے لئے سخت تاکید کی گئی تھی یہاں تک کہ حکم تھا کہ ہر ایک یہودی اس تعلیم کو حفظ کر لے اور اپنے گھر کے (۵۴) چوکٹوں پر اس کو لکھ چھوڑیں اور اپنے بچوں کو سکھا دیں اور پھر علاوہ اس کے اسی توحید کی تعلیم کے یاد دلانے کے لئے متواتر خدا تعالیٰ کے نبی یہودیوں میں آتے رہے اور وہی تعلیم سکھلاتے رہے پس یہ امر بالکل غیر ممکن اور محال تھا کہ یہودی لوگ باوجود اس قدر تا کید اور اس قدر تواتر انبیاء کے تثلیث کی تعلیم کو بھول جاتے اور بجائے اس کے توحید کی تعلیم اپنی کتابوں میں لکھ لیتے اور وہی بچوں کو سکھاتے اور آنے والے صد با نبی بھی اسی توحید کی تعلیم کو دوبارہ تازہ کرتے ایسا خیال تو سراسر خلاف عقل و قیاس ہے۔ میں نے اس بارہ میں خود کوشش کر کے بعض یہودیوں سے حلفاً دریافت کیا تھا کہ توریت میں خدا تعالیٰ کے بارے میں آپ لوگوں کو کیا تعلیم دی گئی تھی؟ کیا تثلیث کی تعلیم دی گئی تھی یا کوئی اور ۔ تو ان یہودیوں نے مجھے خط لکھے جواب تک میرے پاس موجود ہیں اور ان خطوں میں بیان کیا کہ توریت میں تثلیث کی تعلیم کا