چشمۂ مسیحی — Page 376
روحانی خزائن جلد ۲۰ چشمه مسیحی اپنے مخالفوں کے ہاتھ سے ماریں کھاتا رہا۔ زندان میں داخل کیا گیا ۔ کوڑے لگے ۔ صلیب پر کھینچا گیا۔ اگر وہ قادر ہوتا تو اتنی ذلتیں باوجود خدا ہونے کے ہرگز نہ اُٹھاتا اور نیز اگر وہ قادر ہوتا تو اس کے لئے کیا ضرورت تھی کہ اپنے بندوں کو نجات دینے کے لئے یہ تجویز سوچتا کہ آپ مر جائے اور اس طریق سے بندے رہائی پاویں۔ جو شخص خدا ہو کر تین دن تک مرا ر ہا اس کی قدرت کا نام لینا ہی قابل شرم بات ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ خدا تو تین دن تک مرار ہا لیکن اُس کے بندے تین دن تک بغیر خدا کے ہی جیتے رہے۔ اور پھر ان لوگوں کی توحید کا یہ حال ہے کہ آریہ سماج والے تو ذرہ ذرہ اور تمام ارواح کو خود بخود موجود ہونے میں اپنے پر میشر کے شریک ٹھہراتے ہیں اور اُن کے وجود اور بقاء کو محض انہیں کی طاقت اور قوت کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور یہ محض شرک ہے۔ رہے عیسائی۔ سوان کا یہ حال ہے کہ وہ صریح تو حید کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔ حملے وہ اعتقاد جو قرآن شریف نے سکھایا ہے یہ ہے کہ جیسا کہ خدا نے ارواح کو پیدا کیا ہے ایسا ہی وہ ان کے معدوم کرنے پر بھی قادر ہے۔ اور انسانی روح اس کی موہت اور فضل سے ابدی حیات پاتی ہے۔ نہ اپنی ذاتی قوت سے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنے خدا کی پوری محبت اور پوری اطاعت اختیار کرتے ہیں اور پورے صدق اور وفاداری سے اُس کے آستانہ پر جھکتے ہیں اُن کو خاص طور پر ایک کامل زندگی بخشی جاتی ہے اور ان کے فطرتی حواس میں بھی بہت تیزی عطا کی جاتی ہے۔ اور ان کی فطرت کو ایک نور بخشا جاتا ہے جس نور کی وجہ سے ایک فوق العادت روحانیت اُن میں جوش مارتی ہے اور تمام روحانی طاقتیں جو دنیا میں وہ رکھتے تھے موت کے بعد بہت وسیع کی جاتی ہیں اور نیز مرنے کے بعد وہ اپنی خداداد مناسبت کی وجہ سے جو حضرت عزت سے رکھتے ہیں آسمان پر اُٹھائے جاتے ہیں جس کو شریعت کی اصطلاح میں رفع کہتے ہیں ۔ لیکن جو مومن نہیں ہیں اور جو خدا تعالیٰ سے صاف تعلقات نہیں رکھتے یہ زندگی ان کو نہیں ملتی اور نہ یہ صفات ان کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ لوگ مُردہ کے حکم میں ہوتے ہیں۔ پس اگر خدا تعالیٰ رُوحوں کا پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو وہ اپنے قادرانہ تصرف سے مومن اور غیر مومن میں یہ فرق دکھلا نہ سکتا۔ منہ