چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 378

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۷۴ چشمه مسیحی نام ونشان نہیں بلکہ خدا تعالی کے بارہ میں توریت کی وہی تعلیم ہے جو قرآن کی تعلیم ہے۔ پس افسوس ہے ایسی قوم پر جو ایسے اعتقاد پر اڑی بیٹھی ہے کہ نہ تو وہ تعلیم توریت میں موجود ہے (۵۵) اور نہ قرآن شریف میں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ تثلیث کی تعلیم انجیل میں بھی موجود نہیں ۔ انجیل میں بھی جہاں جہاں تعلیم کا بیان ہے ان تمام مقامات میں تثلیث کی نسبت اشارہ تک نہیں بلکہ خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتی ہے۔ چنانچہ بڑے بڑے معاند پادریوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ انجیل میں تثلیث کی تعلیم نہیں ۔ اب یہ سوال ہوگا کہ عیسائی مذہب میں تثلیث کہاں سے آئی؟ اس کا جواب محقق عیسائیوں نے یہ دیا ہے کہ یہ تثلیث یونانی عقیدہ سے لی گئی ہے۔ یونانی لوگ تین دیوتاؤں کو مانتے تھے جس طرح ہندو ترے مورتی کے قائل ہیں ۔ اور جب پولوس نے یہودیوں کی طرف رخ کیا اور چونکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یونانیوں کو عیسائی مذہب میں داخل کرے اس لئے اُس نے یونانیوں کے خوش کرنے کے لئے بجائے تین دیوتاؤں کے تین اقنوم اس مذہب میں قائم کر دیئے ورنہ حضرت عیسی کی بلا کو بھی معلوم نہ تھا کہ اقنوم کس چیز کا نام ہے۔ ان کی تعلیم خدا تعالیٰ کی نسبت تمام نبیوں کی طرح ایک سادہ تعلیم تھی کہ خدا واحد لاشریک ہے۔ پس یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مذہب جو عیسائی مذہب کے نام سے شہرت دیا جاتا ہے۔ دراصل پولوی مذہب ہے نہ مسیحی کیونکہ (۵۲) حضرت مسیح نے کسی جگہ تثلیث کی تعلیم نہیں دی اور وہ جب تک زندہ رہے خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتے رہے اور بعد ان کی وفات کے ان کا بھائی یعقوب بھی جو ان کا جانشین تھا اور ایک بزرگوار انسان تھا توحید کی تعلیم دیتارہا۔ اور پولوس نے خواہ نخواہ اس بزرگ سے مخالفت شروع کر دی اور اس کے عقائد صحیحہ کے مخالف تعلیم دینا شروع کیا۔ اور انجام کار پولوس اپنے خیالات میں یہاں تک بڑھا کہ ایک نیا مذہب قائم کیا اور توریت کی پیروی سے اپنی جماعت کو بکلی علیحدہ کر دیا اور تعلیم دی کہ مسیحی مذہب میں مسیح کے کفارہ کے بعد شریعت کی ضرورت نہیں اور خون مسیح گناہوں کے دور کرنے کے لئے کافی ہے۔ توریت حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” یونانیوں “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)