چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 364

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۰ چشمه مسیحی جن چیزوں کو انہوں نے اپنی خوشحالی کا ذریعہ سمجھا تھا دراصل وہی چیزیں ان کی ہلاکت کا موجب تھیں اور بعض لوگ دنیوی عزت اور ناموری کے بڑھانے اور مراتب مناصب کے طلب کرنے میں اپنی خوشحالی دیکھتے ہیں۔ اور اپنی زندگی کے اصل مطلب سے نا آشنا رہتے ہیں لیکن آخر کار وہ بھی حسرت سے مرتے ہیں اور بعض اسی خواہش سے دنیا کا مال اکٹھا کرتے رہتے ہیں کہ شاید اسی میں خوشحالی پیدا ہو مگر انجام یہ ہوتا ہے کہ اس اپنے تمام اندوختہ کو چھوڑ کر بڑے درد اور دکھ کے ساتھ اور بڑی تلخیوں کے ساتھ موت کا پیالہ پیتے ہیں۔ سو طالب حق کے لئے جو قابل غور سوال ہے وہ یہی سوال ہے کہ سچی خوشحالی کیونکر حاصل ہو جو دائی مسرت اور خوشی کا موجب ہو اور در حقیقت سچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ وہ اُس خوشحالی تک پہنچا دے۔ سو ہم قرآن شریف کی ہدایت سے اس دقیق در دقیق نکتہ تک پہنچتے ہیں کہ وہ ابدی خوشحالی خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت اور پھر اس یگانہ کی پاک اور کامل اور ذاتی محبت اور کامل ایمان میں ہے جو دل میں عاشقانہ بے قراری پیدا کرے۔ یہ چند لفظ کہنے کو تو بہت تھوڑے ہیں لیکن اُن کی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ایک دفتر بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ یا در ہے کہ صحیح معرفت حضرت عزت جل شانہ کی کئی نشانیاں ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اُس کی قدرت اور توحید اور علم اور ہر ایک خوبی اور صفت پر کوئی داغ نقص کا نہ لگایا جائے کیونکہ جس ذات کا ذرہ ذرہ پر حکم ہے اور جس کے تصرف میں تمام فوجیں روحوں کی اور تمام ہیکل زمین و آسمان کی ہے وہ اگر اپنی قدرتوں اور حکمتوں اور قوتوں میں ناقص ہو تو اس عالم جسمانی اور روحانی کا کام چل ہی نہیں سکتا۔ اگر نعوذ باللہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ذرات اور ان کی تمام طاقتیں اور ارواح اور ان کی تمام قوتیں خود بخود ہیں تو مانا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا علم اور تو حید اور قدرت تینوں ناقص ہیں۔ وجہ یہ کہ اگر تمام ارواح اور ذرات خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے پیدا شدہ نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں