چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 363

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۵۹ چشمه مسیحی خاتمہ رسالہ نجات حقیقی کے بیان میں میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس رسالہ کے اخیر میں نجات حقیقی کا کچھ ذکر کیا جائے کیونکہ تمام اہل مذاہب کا کسی مذہب کی پیروی سے یہی مدعا اور مقصد ہے کہ نجات حاصل ہونگر افسوس کہ اکثر لوگ نجات کے حقیقی معنوں سے بے خبر اور غافل ہیں۔ عیسائیوں کے نزدیک نجات کے یہ معنی ہیں کہ گناہ کے مواخذہ سے رہائی ہو جائے لیکن دراصل نجات کے یہ معنے نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ ایک شخص نہ زنا کرے، نہ چوری کرے، نہ جھوٹی گواہی ، نہ خون کرے اور نہ کسی اور گناہ کا جہاں تک اس کو علم ہے ارتکاب کرے اور با ایں ہمہ نجات کی کیفیت سے بے نصیب اور محروم ہو کیونکہ دراصل نجات اس دائمی خوشحالی کے حصول کا نام ہے جس کی بھوک اور پیاس انسانی فطرت کو لگا دی گئی ہے جو محض خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت اور اس کی پوری معرفت اور اس کے پورے تعلق کے بعد حاصل ہوتی ہے جس میں شرط ہے کہ دونوں طرف سے محبت جوش مارے لیکن بسا اوقات انسان اپنی غلط کاریوں سے ایسی چیزوں میں اپنی اس خوشحالی کو طلب کرتا ہے کہ جن سے آخر کار تکلیف اور نا خوشی اور بھی بڑھتی ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ دنیا کی نفسانی عیاشیوں میں اس خوش حالی کو طلب کرتے ہیں اور دن رات میخواری اور شہوات نفسانیہ کا شغل رکھ کر انجام کار طرح طرح کی مہلک امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور آخر کا رسکتہ۔ فالج ۔ رعشہ اور کز از اور یا انتڑیوں یا جگر کے پھوڑوں میں مبتلا ہو کر اور یا آتشک اور سوزاک کی قابل شرم مرض سے اس جہان سے رخصت ہوتے ہیں اور باعث اس کے کہ اُن کی قوتیں قبل از وقت تحلیل ہو جاتی ہیں اس لئے وہ طبعی عمر سے بھی بے نصیب رہتے ہیں۔ اور انجام کار ان کو اس بات کا پتہ لگ جاتا ہے کہ