چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 365

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۱ چشمه مسیحی اس بات کا یقین ہو کہ خدا تعالیٰ کو ان کے اندرونی حالات کا علم ہے اور جبکہ اس کے علم پر کوئی ۳۵ ہے دلیل قائم نہیں بلکہ اس کے برخلاف دلیل قائم ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہماری طرح خدا تعالیٰ بھی ان چیزوں کی اصل کہنہ سے بے خبر ہے اور اس کا علم ان کے پوشیدہ در پوشیدہ اسرار پر محیط نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جیسے مثلاً ایک دوا اپنے ہاتھ سے طیار کی جاتی ہے یا اپنی نظر کے سامنے ایک شربت یا گولیاں یا چند دواؤں کا عرق طیار کیا جاتا ہے تو بوجہ اس کے کہ ہم خود اس نسخہ کے بنانے والے ہیں ہمیں ان تمام دواؤں کا پورا علم ہوتا ہے اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں دوا ہے اور فلاں فلاں وزن کے ساتھ اس مقصد کے لئے بنائی گئی ہے لیکن اگر کوئی عرق یا گولیاں یا شربت ایسا مجہول الکنہ ہو جس کو ہم نے بنایا نہیں اور نہ ہم ان اجزا کو جدا جدا کر سکتے ہیں تو ہم ضرور ان دواؤں سے بے خبر ہوں گے اور یہ بات تو بدیہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو ذرات اور ارواح کا بنانے والا مان لیا جائے تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ بالضرور خدا تعالیٰ کو ان تمام ذرات اور ارواح کی پوشیدہ قوتوں اور طاقتوں کا علم بھی ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ وہ خود ان قوتوں اور طاقتوں کا بنانے والا ہے اور بنانے والا اپنی بنائی ہوئی چیز سے بے خبر نہیں ہوتا لیکن اگر یہ صورت ہو کہ وہ ان قوتوں اور طاقتوں کا ﴿۳۶﴾ بنانے والا نہیں ہے تو کوئی بُرہان اس پر قائم نہیں ہو سکتی کہ اس کو ان تمام قوتوں اور طاقتوں کا علم بھی ہے۔ اگر تم بغیر دلیل کے کہہ دو کہ اس کو علم ہے تو یہ ایک تحکم ہے اور محض ایک دعوئی ہے لیکن جیسا کہ یہ دلیل ہمارے ہاتھ میں ہے کہ بنانے والا ضرور اپنی بنائی ہوئی چیز کا علم رکھتا ہے اس کے مقابل پر کونسی دلیل آپ کے ہاتھ میں ہے کہ جو چیزیں اپنے ہاتھ سے خدا تعالیٰ نے بنائی نہیں۔ اُس کو ان کی تمام پوشیدہ قوتوں اور طاقتوں کا علم ہے کیونکہ وہ چیزیں خدا تعالیٰ کے وجود کا عین تو نہیں تا جیسا کہ اپنے وجود پر اطلاع ہوتی ہے ان پر بھی اطلاع ہو بلکہ وہ تمام چیزیں آریہ سماج کے اعتقاد کے رو سے اپنے اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہیں اور آپ ہی انادی اور قدیم ہیں اور بوجہ غیر مخلوق اور قدیم ہونے کے