چشمہٴ معرفت — Page 71
روحانی خزائن جلد ۲۳ اے چشمه معرفت اور وہ انواع اقسام کی گمراہی جو رفتہ رفتہ پیچھے سے لاحق حال ہو جاتی ہے اور دلوں پر میل کی (۱۳) طرح جم کر جامعہ ناپاک کی طرح کر دیتی ہے اس وقت موجود نہیں ہوتی بلکہ دل سفید کپڑے کی طرح ہوتے ہیں مگر بعد میں رفتہ رفتہ طرح طرح کے بُرے کام اور انواع اقسام کے گناہ پیدا ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کثرت گناہوں کے سبب سے لوگ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتے ہیں اور بُری عادتیں اُن کے دلوں میں جم جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ خراب عقیدوں اور خراب عادتوں کو اپنا ایک مذہب بنا لیتے ہیں اور پھر اُن باطل طریقوں کی حمایت کے لئے ان کے دلوں میں تعصب اور حمیت پیدا ہو جاتی ہے اور ان بدعقیدوں اور بد رسوم کا چھوڑنا اس لئے بھی اُن پر مشکل ہو جاتا ہے کہ قومی تعلقات اس سے مانع ہو جاتے ہیں اور باہمی رشتہ ناطہ کی بھاری زنجیر میں اس بات سے روکتی ہیں کہ قومی مذہب کو ترک کیا جاوے۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسے وقت میں جو کوئی رسول خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے گا تا ایسے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کرے تو کس قدر مشکلات کا اُس کو سامنا پڑے گا اور کس قدر ضروری ہوگا کہ ایسے پر آشوب اور پر فساد زمانہ میں خدا تعالیٰ نوع انسان پر رحم فرما کر اُن کی اصلاح کے لئے کوئی رسول بھیجے ۔ کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ ابتداءِ آفرینش کے زمانہ میں جب کہ یہ تمام مفاسد اور نہایت گندے عقیدے اور گندے گناہ دنیا میں موجود نہ تھے تب تو خدا تعالیٰ نے نوع انسان پر رحم کر کے کوئی الہامی کتاب اُن کو عنایت فرمائی لیکن جب زمین ناپاکی سے بھر گئی اور وہ پہلی کتاب اصلاح نہ کر سکی بلکہ صد با بد عقیدے اس کی غلط فہمی سے پیدا ہو گئے اور نیز اُس کی تعلیم سے بہت سے حصے دُنیا کے بے خبر رہے اور انہوں نے بے خبری کی حالت میں جو کچھ عقیدہ اور عمل چاہا اختیار کیا اور ہر ایک بُرے کام سے حصہ لیا۔ ایسے زمانہ میں کوئی الہامی کتاب خدا نے نازل نہ کی اور کیا ہم یہ خیال کر سکتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش کے زمانہ میں تو خدا تعالیٰ کو یہ طاقت اور قدرت حاصل تھی کہ لوگوں کو اپنے احکام پر قائم ہونے کے لئے کوئی