چشمہٴ معرفت — Page 70
روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت (۱۲) کتابوں میں تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں اور کس قدر خرابیاں ظہور میں آجاتی ہیں۔ پس سچ تو یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں جب کہ انسانی نفوس سادہ اور شر سے خالی ہوتے ہیں ایسی سخت ضرورت الہامی کتاب کی نہیں ہوتی جیسا کہ اس فاسد زمانہ میں الہامی کتاب کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ دنیا میں حد سے زیادہ بد عقیدگی اور بدچلنی پھیل جاتی ہے اور ہر ایک قسم کے عیب اور بدکاری اور شرک اور ہر ایک قسم کا ظلم اور انواع اقسام کے معاصی اور جرائم اور مخلوق پرستی طبیعت میں جم جاتی ہے اور سینہ میں نقش ہو جاتی ہے اور دل میں گھر کر جاتی ہے اور پھر سچائی سے اس قدر بغض ہو جاتا ہے کہ ایسے مفسد لوگ اپنے واعظ اور ناصح کے جانی دشمن ہو جاتے ہیں اور مرنے مارنے پر طیار ہو جاتے ہیں اور دکھ دیتے ہیں اور سخت مقابلہ کرتے ہیں۔ پس ایسے وقت پر جو خدا کا کوئی رسول اصلاح کے لئے آتا ہے تو اس پر بڑی مشکلیں پڑتی ہیں لیکن جو شخص ابتدائے زمانہ میں خدا کا رسول ہو کر آتا ہے اس کا تو صرف یہ کام ہے کہ جیسا کہ ماں بچوں کو پر ورش کرتی ہے ایسا ہی وہ بھی ابتدائے پیدائش کے لوگوں کو روحانی طور پر بچوں کی طرح پرورش کرتا ہے اور ہنسی خوشی میں اپنی تعلیم اُن کے دلوں میں ڈال دیتا ہے کیونکہ ابتدائے آفرینش کے وقت دل سادہ ہوتے ہیں حاشیه : جو کتاب ابتدائے آفرنیش کے وقت آئی ہوگی اس کی نسبت عقل قطعی طور پر تجویز کرتی ہے کہ وہ کامل کتاب نہیں ہوگی بلکہ وہ صرف اس استاد کی طرح ہوگی جوا بجد خواں بچوں کو تعلیم دیتا ہے صاف ظاہر ہے کہ ایسی ابتدائی تعلیم میں بہت لیاقت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ہاں جس زمانہ میں انسانی تجربہ نے ترقی کی اور نیز نوع انسان کئی قسم کی غلطیوں میں پڑ گئی تب بار یک تعلیم کی حاجت پڑی۔ بالخصوص جب گمراہی کی تاریکی دنیا میں بہت پھیل گئی اور انسانی نفوس کئی قسم کی علمی اور عملی ضلالت میں مبتلا ہو گئے تب ایک اعلی اور اکمل تعلیم کی حاجت پڑی اور وہ قرآن شریف ہے۔ لیکن ابتدائے زمانہ کی کتاب کے لئے اعلیٰ درجہ کی تعلیم کی ضرورت نہ تھی کیونکہ ابھی انسانی نفوس سادہ تھے اور ہنوز ان میں کوئی ظلمت اور ضلالت جاگزیں نہیں ہوئی تھی۔ ہاں اس کتاب کے لئے اعلیٰ تعلیم کی ضرورت تھی جو انتہائی درجہ کی ضلالت کے وقت ظاہر ہوئی اور ان لوگوں کی اصلاح کے لئے آئی جن کے دلوں میں عقائد فاسد و راسخ ہو چکے تھے اور اعمال قبیحہ ایک عادت کے حکم میں ہو گئے تھے ۔ منہ