چشمہٴ معرفت — Page 72
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۷۲ چشمه معرفت (۱۳) الهامی کتاب نازل فرماتا ۔ مگر بعد میں ایک ایسے زمانہ میں کہ جب ایک طوفان گناہوں کا بر پا ہوا یہ طاقت اُس کی مسلوب ہو گئی اور اُس کو قدرت نہ رہی کہ انسانوں کی موجودہ حالت کے موافق اُن کی اصلاح کے لئے کوئی کتاب بھیجتا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں تو کسی الہامی کتاب کی چنداں ضرورت نہیں مگر جب کہ زمانہ پر فساد اور گمراہی غالب آگئی ہو اور بد عقیدگی اور بدکاری کے جذام سے روحانیت کا خون بگڑ گیا ہو تو اس صورت میں الہامی کتاب کی اشد ضرورت پیش آئے گی لیکن جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں نوع انسان ابتدائے آفرینش میں اصلاح کی ایسی محتاج نہیں جیسا کہ اس زمانہ میں محتاج ہے جس میں ایک طوفان بد عقیدگی اور بدکاری کا بر پا ہو خاص کر جب کہ بقول آریوں کے ابتدائے آفرینش میں مکتی پانے کا زمانہ قریب تھا اور بوجہ قرب زمانہ مکتی کے پہلی تمام ہدا یتیں اور گیان اور معرفت کی باتیں خوب یاد تھیں اور ابھی دل خراب نہیں ہوئے تھے اور عملی حالت بگڑی نہیں تھی تو ایسے پاک دلوں کو جو ابھی کسی بدعقیدگی اور بدعملی میں مبتلا نہیں ہوئے تھے کسی مصلح اور کسی الہامی کتاب کی چنداں ضرورت نہ تھی اور یہ تو ہم مانتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش میں بھی اُس وقت کے انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ نے کوئی کتاب دی تھی مگر یہ نہیں مانتے کہ وہ کتاب وید ہی ہے اور نہ وید نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے بلکہ برگ وید جابجا اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ وید سے پہلے کئی راستباز گذر چکے ہیں اور وید میں جابجا ایسی چیزوں کا ذکر ہے جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وید اُس زمانہ کی کتاب ہے جب کہ دنیا ہر ایک نیک و بد سے خوب آباد ہو چکی تھی اور اہل دنیا کے تمام ضروری اسباب پیدا ہو چکے تھے اور ہم اس دلیل کو بھی نہیں مانتے کہ جو دید کے الہامی ہونے پر اس طور سے پیش کی جاتی ہے کہ اوّل صرف دعوے کے طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وید ایک ایسی کتاب ہے کہ جو ابتدائے آفرینش میں انسانوں کو دی گئی اور پھر بعد اس کے یہ کہا