چشمہٴ معرفت — Page 48
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۸ چشمه معرفت اور ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے کہ پرمیشر کا نام رُور ہے یعنی بُرے کام کرنے والوں کو رلاتا ہے۔ ایسا ہی لکھا ہے کہ پرمیشر کا نام اریما بھی ہے یعنی جزا سزا دینے والا اور ایسا ہی پر میشر کا نام ان بھی لکھا ہے یعنی تمام دنیا کو کھانے والا ۔ پس ان ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرمیشر میں ایک غضبی صفت ضرور ہے جس کے تقاضا سے وہ گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے اور جس کے تقاضا سے وہ قصور واروں کو کتا ، بلا بناتا ہے اگر اُس میں اس قسم کی صفت موجود بقیه حاشیه : کہ پر میشر میں غضب نہیں اور وہ جو گناہگاروں کو سزا دیتا ہے اس کی بنا کسی ذاتی تقاضا پر نہیں اور اس میں یہ صفت موجود ہی نہیں کہ اس کی ذات تقاضا فرما دے کہ نافرمان کو سزا دے گویا ۴۰ نعوذ باللہ صرف مجانین اور دیوانوں کی طرح اس سے یہ حرکت صادر ہوتی ہے ۔ کہ گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے ورنہ دراصل اُس کی ذات میں کوئی ایسی صفت نہیں جو تقاضا فرماوے کہ نا فرمان کو سزا دی جاوے۔ یہ ہے آریہ لوگوں کی دید وڈیا جو اندھوں کی طرح باتیں کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس صفت کے بیان کرنے میں محض قرآن شریف مخصوص نہیں بلکہ ویدوں کی صد ہاشرتیاں گواہی دے رہی ہیں کہ پر میشر میں ضرور ایک صفت غضبی ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ ویدوں میں پر میشر کا نام تک نہیں ہے اور تمام ویدوں میں بجائے پر میشر کے اگنی اور وایو اور جل اور چاند اور سورج وغیرہ مخلوقات کی اُستت ومہما و تعریف موجود ہے اور انہیں چیزوں کی نسبت غضب کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ پس اگر آریہ صاحبان یہ کہیں کہ ہم ان تمام چیزوں کو جن کی پرستش ویدوں میں موجود ہے ( یعنی اگنی وغیرہ کو) پر میشر نہیں مانتے لہذا ان چیزوں کا غضب اور کینہ وغیرہ جو وید میں لکھا ۔ اور کینہ وغیرہ جو وید میں لکھا ہے یہ قول ہم پر حجت نہیں یہ دکھلاؤ کہ کہاں وید میں لکھا ہے کہ پر میشر بھی غضب کرتا ہے؟ ۔ پس اے ہم وطن پیارو ! جب کہ تمام ویدوں میں پرمیشر کا نام تک نہیں تو ہم ویدوں میں سے پر میشر کا لفظ کہاں سے نکالیں ۔ تمہارا پرمیشر وید کی رو سے جو کچھ ہے وہ یہی چیزیں ہیں اور کوئی پر میشر نہیں ۔ ہاں اس سے ہمیں بھی تو تعجب ہے کہ ویدوں میں ان چیزوں کے صفات بیان کرنے میں عجیب تناقض سے کام لیا ہے ۔ اگر ذرہ غور سے دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ تمام بیان وید کا ایک مخبط الحواس انسان کی طرح ہے ۔ شرتیوں کا مضمون ایسا بے سر و پا اور مہمل ہے کہ فقرہ فقرہ