چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 48

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۸ چشمه معرفت اور ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے کہ پر میشر کا نام رُور ہے یعنی بُرے کام کرنے والوں کو رُلاتا ہے۔ ایسا ہی لکھا ہے کہ پر میشر کا نام اریما بھی ہے یعنی جزا سزا دینے والا اور ایسا ہی پر میشر کا نام ان بھی لکھا ہے یعنی تمام دنیا کو کھانے والا ۔ پس ان ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پر میشر میں ایک غضبی صفت ضرور ہے جس کے تقاضا سے وہ گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے اور جس کے تقاضا سے وہ قصور واروں کو کتا، بلا بناتا ہے اگر اُس میں اس قسم کی صفت موجود بقیه حاشیه : کہ پرمیشر میں غضب نہیں اور وہ جو گناہگاروں کو سزا دیتا ہے اس کی بنا کسی ذاتی تقاضا پر نہیں اور اس میں یہ صفت موجود ہی نہیں کہ اس کی ذات تقاضا فرما دے کہ نا فرمان کو سزا دے گویا ۴۰ نعوذ باللہ صرف مجانین اور دیوانوں کی طرح اس سے یہ حرکت صادر ہوتی ہے ۔ کہ گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے ورنہ دراصل اُس کی ذات میں کوئی ایسی صفت نہیں جو تقاضا فرمادے کہ نا فرمان کو سزا دی جاوے۔ یہ ہے آریہ لوگوں کی دید وڈیا جو اندھوں کی طرح باتیں کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس صفت کے بیان کرنے میں محض قرآن شریف مخصوص نہیں بلکہ ویدوں کی صد ہاشرتیاں گواہی دے رہی ہیں کہ پر میٹر میں ضرور ایک صفت غضبی ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ ویدوں میں پر میشر کا نام تک نہیں ہے اور تمام ویدوں میں بجائے پر میشر کے اگنی اور وایو اور جل اور چاند اور سورج وغیرہ مخلوقات کی اُستت ومهما و تعریف موجود ہے اور انہیں چیزوں کی نسبت غضب کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ پس اگر آر یہ صاحبان یہ کہیں کہ ہم ان تمام چیزوں کو جن کی پرستش ویدوں میں موجود ہے ( یعنی اگنی وغیرہ کو ) پر میشر نہیں مانتے لہذا ان چیزوں کا غضب اور کینہ وغیرہ جو وید میں لکھا ہے یہ قول ہم پر حجت نہیں یہ دکھلاؤ کہ کہاں وید میں لکھا ہے کہ پر میشر بھی غضب کرتا ہے؟ پس اے ہم وطن پیارو ! جب کہ تمام ویدوں میں پر میشر کا نام تک نہیں تو ہم ویدوں میں سے پر میشر کا لفظ کہاں سے نکالیں ۔ تمہارا پر میشر وید کی رو سے جو کچھ ہے وہ یہی چیزیں ہیں اور کوئی پر میشر نہیں ۔ ہاں اس سے ہمیں بھی تو تعجب ہے کہ ویدوں میں ان چیزوں کے صفات بیان کرنے میں عجیب تناقض سے کام لیا ہے ۔ اگر ذرہ غور سے دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ تمام بیان دید کا ایک مخبط الحواس انسان کی طرح ہے۔ شرتیوں کا مضمون ایسا بے سروپا اور مہمل ہے کہ فقرہ فقرہ