چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 47

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۷ انسانی محبت کی طرح جیسا کہ خود اللہ تعالی نے قرآن شریف میں فرمایا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ ءٍ یعنی خدا کی ذات اور صفات کی مانند کوئی چیز نہیں۔ بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ آریوں کے دید کی رو سے اُن کا پر میشر کیوں گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے یہاں تک کہ انسانی جون سے بہت نیچے (۳۹) پھینک کر کتا ، سور، بندر، بلا بنا دیتا ہے ۔ آخر اس میں ایک ایسی صفت ماننی پڑتی ہے کہ جو اس فعل کے لئے وہ محرک ہو جاتی ہے۔ اسی صفت کا نام قرآن شریف میں غضب ہے۔ چنانچہ رگ وید بھی اس غضبی صفت سے جو پرمیشر میں پائی جاتی ہے بھرا پڑا ہے جیسا کہ رگ وید میں مندرجہ ذیل شرتیاں درج ہیں۔ (1) اے اندر اور اگنی بجسر گھمانے والو شہروں کے غارت کرنے والو ہمیں دولت عطا کرو۔ لڑائیوں سے ہماری مدد کرو۔ (۲) اے اندر جو سب دیوتاؤں میں اول درجہ کا دیوتا ہے ہم تجھے بلاتے ہیں۔ تو نے لڑائیوں میں فتوحات حاصل کی ہیں۔ ایسا ہو کہ اندر کار ساز غضب ناک جو تمام مانع چیزوں کا جڑھ سے اکھاڑنے والا ہے۔ ہمارے رتھ کو لڑائیوں میں سب سے آگے رکھے۔ (۳) تو اے اندر فتح کرتا ہے لیکن لوٹ کو نہیں روکتا۔ چھوٹی چھوٹی لڑائیوں میں اور بڑی سخت لڑائیوں میں ہم تجھے اے میگوا ہن اپنی حفاظت کے لئے تیز کرتے ہیں۔ (۴) اے اجیت اندر ایسی لڑائیوں میں ہماری حفاظت کر جہاں سے بہت لوٹ ہمارے ہاتھ آوے۔ (۵) اے اگنی ہمارے دشمنوں کو جلا دے۔ تو بہتوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے حد حاشیه : ان تمام شرتیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے آر یہ لوگ ان عناصر وغیرہ کو اپنے زعم میں پر میشر سمجھتے تھے اور غضب وغیرہ تمام صفات خدا تعالیٰ کے ان کی طرف منسوب کرتے تھے پھر نہ معلوم کہ کیوں اور کس وجہ سے مضمون سنانے والے نے وید کی تعلیم کے مخالف جلسہ میں یہ مضمون سنایا الشورى : ۱۲