چشمہٴ معرفت — Page 49
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۹ چشمه معرفت نہیں کہ وہ تقاضا کرتی ہے کہ پر میشر گنہ گاروں کو سزا دے تو پھر کیوں پر میشر کی طبیعت سزا دینے کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ آخر اس میں ایک صفت ہے جو بدلہ دینے کے لئے توجہ دلاتی ہے پس اسی صفت کا نام غضب ہے لیکن وہ غضب نہ انسان کے غضب کی مانند ہے بلکہ خدا کی شان کی مانند ۔ اسی غضب کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے اور جیسا کہ قرآن شریف نے نافرمانوں کے حق میں غضب کا لفظ فرمایا ہے ایسا ہی فرمانبرداروں کے حق میں محبت کا لفظ فرمایا ہے اور ذکر کیا ہے کہ یہ دونوں صفتیں خدا میں موجود ہیں لیکن نہ اس کی محبت انسان کی محبت کی طرح ہے اور نہ اُس کا غضب انسان کے غضب کی طرح ہے بلکہ اس کی یہ دو پاک صفتیں ہر ایک نقص سے مبرا ہیں جب وہ ایک اچھے عمل کرنے والے پر اپنا انعام واکرام وارد کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اُس نے اُس سے محبت کی اور جب وہ ایک بُر اعمل کرنے والے کو سزا دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اُس نے اُس پر غضب کیا۔ غرض جیسا کہ ویدوں میں غضب کا ذکر ہے ایسا ہی قرآن شریف میں بھی ذکر ہے صرف یہ فرق ہے کہ ویدوں نے خدا کے غضب کو اس حد تک پہنچا دیا کہ یہ تجویز کیا کہ وہ شدت غضب کی وجہ سے انسانوں کو گناہ کی وجہ سے کیڑے مکوڑے بنا دیتا ہے مگر قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس حد تک نہیں پہنچایا بلکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا با وجود بقیه حاشیه : میں باہمی تناقض پایا جاتا ہے مثلاً ایک فقرہ میں اگنی کو خدا بنا یا گیا ہے اور اس کی اُستت اور مہما گائی گئی ہے اور اس سے مرادیں مانگی گئی ہیں اور خدائی طاقت اس کی طرف منسوب کی گئی ہے اور پھر دوسرے فقرہ میں اسی اگنی کو مخلوق قرار دیا گیا ہے اور بیان کیا گیا کہ اے اگنی تو بہتوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اسی طرح بعض مقامات میں اندر کی طرف خدائی صفات منسوب کئے گئے ہیں اور پھر بعض مقامات میں اسی اندر کو کسی رشتی کا بیٹا قرار دیا گیا ہے گو یا بیان کرنے والے کے حواس قائم نہیں اور یا اس کی قوت حافظہ مفقود ہے کہ پہلے جو کچھ کہتا ہے پھر دوسری دفعہ اپنے پہلے بیان کے مخالف بولتا ہے ۔ خدا کے کلام میں اختلاف نہیں ہو سکتا اور نہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی جگہ مخلوق کی پرستش کی جاوے ۔ منہ