چشمہٴ معرفت — Page 430
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۳۰ چشمه معرفت اور اس بات کا محتاج نہیں کہ اس کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ اُس کے سر میں مغز کس قدر ہے اور اُس کا جگر کس قدر بڑا ہے اور اُس کے تمام بدن میں ہڈیاں کس قدر ہیں اور رگیں کس قدر اور پٹھے کس قدر ہیں بلکہ محبت کی راہ میں ان تشریحات کی ضرورت نہیں۔ ایسا ہی جو لوگ محبت الہی میں مست و مدہوش ہو جاتے ہیں اُن کو ان تحقیقاتوں کی ضرورت نہیں ہوتی کہ خدا کیونکر روحوں کو پیدا کر لیتا ہے اور کس دلیل سے سمجھا جائے کہ ذرات یعنی پر مانو اس کے پیدا کردہ ہیں کیونکہ محبت کی راہ میں ان تحقیقاتوں کی ضرورت نہیں۔ تم خود سوچ لو کہ تم مثلاً اپنے بچوں اور بیویوں سے محبت رکھتے ہو یہاں تک کہ اگر بچہ یا بیوی ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہو جائے تو تمہارے حواس اڑ جاتے ہیں آنکھوں کے آگے اندھیرا آ جاتا ہے اور اس محبت کی تکمیل کے لئے کبھی تمہیں خیال نہیں آتا کہ اُن کی اندرونی بناوٹ کی تمہیں اطلاع حاصل ہو۔ صرف بچہ یا بیوی ہونے کی وجہ سے جو تمہیں یقین ہے کہ وہ ہمارا بچہ اور یہ ہماری بیوی ہے اس لئے اس قدر ان کی بیماری سے بے چینی اور بے قراری تم میں پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اور اس کے عشق اور محبت کے لئے اس کے بے انتہا (۱۳) اندرونی اسرار کا معلوم کرنا ضروری نہیں اور نہ انسان کی طاقت ہے کہ معلوم کرے جیسا کہ اُس نے خود قرآن شریف میں فرمایا لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكَ الْأَبْصَارَ یعنی عقلیں اس کی حقیقت تک پہنچ نہیں سکتیں اور وہ تمام عقلوں پر محیط ہے۔ پس خدا تعالیٰ کی معرفت کے بارہ میں صرف یہ معلوم کرنا کافی ہے کہ وہ موجود ہے اور قدرت اور رحم اور علم اور حکمت وغیرہ تمام صفات اس میں پائے جاتے ہیں جو کامل ربوبیت اور جزا کے لئے ضروری ہیں اور نیز یہ کہ وہ ہمارا خالق ہے یا یہ کہ اُس کا ہم پر یہ فضل واحسان ہے کیونکہ محبت پیدا ہونے کے لئے اس قدر معرفت کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی کا باپ یا ماں ہو اور وہ کسی جگہ رات کے وقت اپنے باپ یا ماں کو شناخت نہ کرے تو وہ اس کی وہ عزت نہیں الانعام : ۱۰۴