چشمہٴ معرفت — Page 431
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۳۱ چشمه معرفت کرے گا جو کرنی چاہیے پس محبت اور ادب پیدا ہونے کے لئے معرفت ضروری ہے مگر اُسی قدر جس کو محبت چاہتی ہے جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں معرفت محبت پر مقدم ہے اور محبت معرفت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت سے پہلے اس کی معرفت ضروری ہے مگر اُسی قدر معرفت جو محبت کے لئے ضروری ہے لیکن اُس معرفت کو اس جگہ کچھ تعلق نہیں جو ایک ڈاکٹر پیٹ چیر کر یا سر پھوڑ کر حاصل کرتا ہے بلکہ صرف اس قدر معرفت چاہیے جو بیٹے کے لئے اپنے باپ کی شناخت کے لئے ضروری ہے۔ اگر قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ اسی معرفت کو سکھاتا ہے جس سے محبت پیدا ہو اور عشق الہی دل میں جوش مارے۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ایک شخص کو کسی پر عاشق بنانے کے لئے صرف اس قدر ضروری ہے کہ یہ بیان کیا جائے کہ وہ حسن میں یکتا ہے وہ خوبصورتی میں بے نظیر ہے اُس کی صورت میں ملاحت ہے اُس کی آنکھیں دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اُس کے (۶۴) لب شیریں ہیں اور اُس کی آواز دلکش ہے اور چہرہ اُس کا چاند کی طرح چمکتا ہے اور وہ اپنے حسن اور خوبی اور ملاحت میں بے نظیر اور وحدہ لاشریک ہے یہ تو ضروری نہ ہوگا کہ آپ اُس کی اندرونی بناوٹ اور معدہ اور تلی اور پھپھر ہ اور گردوں وغیرہ کا کچھ ذکر کریں کہ یہ امور حسن سے بے تعلق ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنی خوبیوں کا قرآن شریف میں ذکر کیا ہے وہ تمام حسن اور محبوبانہ اخلاق کے بیان میں ہے اور اُس کے پڑھنے سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ وہ پڑھنے والے کو خدا کا عاشق بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس نے ہزار ہا عاشق بنائے اور میں بھی اُن میں سے ایک ناچیز بندہ ہوں۔ کون ہے جو خدا کے اندرونی حالات کی تشریح کرے۔ خدا کے رگ پٹھے پہچاننے والا کونسا ڈاکٹر ہے اور جب کہ انسانی بناوٹ کی اب تک تشریح ختم نہیں ہوئی اور ایسی خورد بین اب تک میسر نہیں آئی کہ وہ کیڑے دکھائی دے جائیں جو انسان کو ایک دم میں ہلاک کر دیتے ہیں تو پھر خدا کے صفات کی تشریح کیونکر ہوسکتی