چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 418

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱۸ چشمه معرفت کرتا ہے کہ ایسی فطرت جو باعث اپنی نہایت صفائی کے آفتاب حقیقی کی روشنی قبول کرتی ہے وہ بھی کئی قسم پر ہے بعض فطرتوں کا دائرہ تنگ ہوتا ہے وہ روشنی تو قبول کرتے ہیں مگر اپنے دائرہ کے قدر کے موافق ۔ مثلاً چھوٹا سا شیشہ جو آرسی کا شیشہ کہلاتا ہے اگر چہ اُس میں بھی کوئی صورت منعکس ہو سکتی ہے بلکہ تمام نقوش اصل صورت کے اُس میں منعکس ہو جاتے ہیں مگر وہ نقوش بہت ہی چھوٹے ہو کر اس میں نمودار ہوتے ہیں اور بڑے شیشہ میں پورے پورے نقوش صورت کے منعکس ہو سکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک صافی شیشہ جس قدر روشنی کو آفتاب کے مقابل ہونے کی حالت میں اپنے اندر لیتا ہے دوسرا شیشہ کہ کسی قدر کثافت اپنے اندر رکھتا ہے اس قدر روشنی حاصل نہیں کر سکتا۔ پھر اس جگہ ایک اور امر بیان کرنے کے لائق ہے کہ وہ حقیقت جس کا نام ہم لوگ شفاعت رکھتے ہیں دراصل اُس کی فلاسفی بھی یہی ہے کیونکہ قاعدہ ہے کہ جب ایک تاریکی ایک روشن جوہر کے مقابل پر آتی ہے تو وہ تاریکی روشنی کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ پس اسی طرح جب ایک مصفا فطرت جو نہایت صافی آئینہ کی طرح ہو جاتی ہے آفتاب حقیقی کے مقابل پر آکر اُس سے روشنی حاصل کر لیتی ہے تو کبھی ایسا اتفاق ہو جاتا ہے کہ ایک تاریک فطرت اُس روشن فطرت کے مقابل پر آجاتی ہے تو بوجہ اس محاذات کے اُس پر بھی روشنی کا عکس پڑ جاتا ہے تب وہ فطرت بھی روشن ہو جاتی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب ایک آئینہ صافی پر آفتاب کی شعاع پڑتی ہے تو وہ آئینہ اپنے مقابل کے درودیوار کو اُس روشنی (۵۰) سے منور کر دیتا ہے یہی شفاعت کی حقیقت ہے۔ شفع عربی زبان میں جفت کو کہتے ہیں کہ جو طاق کے مقابل پر ہے۔ پس جو شخص ایک پاک فطرت اور کامل انسان سے ایسا تعلق حاصل کرتا ہے کہ گویا اُس کی جزو ہے تو قانون قدرت اسی طرح واقع ہے کہ وہ اُس کے انوار میں سے حصہ لیتا ہے۔ غرض نجات کی فلاسفی یہی ہے کہ خدا سے پاک اور کامل تعلق پیدا کرنے والے اس لا زوال نور کا مظہر ہو جاتے ہیں