چشمہٴ معرفت — Page 417
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱۷ چشمه معرفت اور اپنے عزیز دوستوں سے محبت رکھتے ہیں اور وہ محبت اُن کے دلوں میں پھنس جاتی ہے کہ ۲۸ اُن کے مرنے کے ساتھ ایسے بے قرار ہو جاتے ہیں کہ گویا آپ ہی مر جاتے ہیں یہی محبت بلکہ اس سے بہت بڑھ کر اپنے خدا سے پیدا ہو جائے یہاں تک کہ اس محبت کے غلبہ میں دیوانہ کی طرح ہو جائے اور کامل محبت کی سخت تحریک سے ہر ایک دُکھ اور ہر ایک زخم اپنے لئے گوارا کرے تا کسی طرح خدا تعالیٰ راضی ہو جائے۔ جب انسان پر اس مرتبہ تک محبت الہی غلبہ کرتی ہے تب تمام نفسانی آلائشیں اس آتش محبت سے خس و خاشاک کی طرح جل جاتی ہیں اور انسان کی فطرت میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہو جاتا ہے اور اُس کو وہ دل عطا ہوتا ہے جو پہلے نہیں تھا اور وہ آنکھیں عطا ہوتی ہیں جو پہلے نہیں تھیں اور اس قدر یقین اس پر غالب آجاتا ہے کہ اسی دُنیا میں وہ خدا کو دیکھنے لگتا ہے اور وہ جلن اور سوزش جو دنیا داروں کی فطرت کو دنیا کے لئے جہنم کی طرح لگی ہوئی ہوتی ہے وہ سب دور ہو کر ایک آرام اور راحت اور لذت کی زندگی اس کو مل جاتی ہے تب اس کیفیت کا نام جو اُس کو ملتی ہے نجات رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کی روح خدا کے آستانہ پر نہایت محبت اور عاشقانہ تپش کے ساتھ گر کر لازوال آرام پالیتی ہے اور اس کی محبت کے ساتھ خدا کی محبت تعلق پکڑ کر اُس کو اس مقام محتویت پر پہنچا دیتی ہے کہ جو بیان کرنے سے بلند اور برتر ہے۔ انسان کی ایک ایسی فطرت ہے کہ وہ خدا کی محبت اپنے اندر مخفی رکھتی ہے۔ پس جب وہ محبت تزکیۂ نفس سے بہت صاف ہو جاتی ہے اور مجاہدات کا صیقل اُس کی کدورت کو دُور کر دیتا ہے تو وہ محبت خدا کے نور کا پر تو ہ حاصل کرنے کے لئے ایک مصفا آئینہ کا حکم رکھتی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب مصفا آئینہ آفتاب کے سامنے رکھا جائے تو آفتاب کی روشنی اُس میں بھر جاتی ہے اس صورت میں نظر کی غلطی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہی آفتاب ہے مگر دراصل وہ آفتاب نہیں ہے بلکہ باعث نہایت صفائی کے آفتاب کی روشنی اُس نے حاصل کی ہے۔ پھر ایک اور بات ہے جو خدا کا کلام ہم پر ظاہر