چشمہٴ معرفت — Page 419
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱۹ چشمه معرفت اور اُس کی محبت کی آگ میں پڑ کر ایسے اپنی ہستی سے دُور ہو جاتے ہیں کہ جیسا کہ لوہا آگ میں پڑ کر آگ کی صورت ہی اختیار کر لیتا ہے مگر در حقیقت وہ آگ نہیں ہے لوہا ہے اور جیسا کہ خدا کی تجلیات سے اُس کے عاشقوں میں ایک حیرت نما تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے ۔ ایسا ہی خدا بھی اُن کے لئے ایک تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ خدا غیر متبدل اور ہر ایک تبدیلی سے پاک ہے مگر ان کے لئے وہ ایسے عجائب کام دکھلاتا ہے کہ گویا وہ ایک نیا خدا ہے وہ خدا نہیں ہے جو عام لوگوں کا خدا ہے کیونکہ جس قدر خدا کے راستباز بندے اپنے پاک اعمال اور صدق اور وفا کے ساتھ اُس کی طرف حرکت کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنی پہلی ہستی سے مرجاتے ہیں خدا بھی اُن کی طرف اکرام اور نصرت کے ساتھ حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ اپنی نصرت اور حمایت اور غیرت کو اُن کے لئے ایسے طور سے دکھاتا ہے کہ وہ معمولی طور پر نہیں بلکہ وہ نصرت خارق عادت طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ یہ بالکل غیر ممکن اور خدا کی کریمانہ عادت کے برخلاف ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے بندہ کو جہنم میں ڈالے کہ جو اپنے سارے دل اور ساری جان اور کامل اخلاص سے اُس کی محبت میں محو ہے اور ایسا محو ہے کہ جیسا کہ سچی محبت کا تقاضا ہونا چاہیے کسی کو اُس کے برابر نہیں جانتا بلکہ ہر ایک کو اُس کے مقابل پر کالعدم سمجھتا ہے اور اپنے وجود کو اُس کی راہ میں فنا کرنے کو طیار ہے پھر ایسا شخص (۵۱) کیونکر مورد عذاب ہو سکتا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کامل محبت ہی نجات ہے بھلا تم سچ کہو کہ کیا تم اپنے ایک بچے کو جس سے تم بہت ہی محبت رکھتے ہو دانستہ آگ میں ڈال سکتے ہو؟ پھر خدا جو سراسر محبت ہے اُن لوگوں کو جو اُس سے پیار کرتے ہیں اور ذرہ ذرہ اُن کا اُس کی محبت میں مستغرق ہے کیونکر آگ میں ڈالے گا۔ پس کوئی قربانی اس سے بہتر قربانی نہیں ہے کہ انسان اُس محبوب حقیقی سے اس قدر محبت کرے کہ خود وہ اس بات کو محسوس کرے کہ در حقیقت اُس کے سوا کوئی اُس کا محبوب اور پیارا نہیں اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس کے لئے خود اپنے نفس کی محبت بھی