چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 395

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹۵ چشمه معرفت اور نیز ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں پیش دستی کر کے لڑائی کرنا ایک سخت مجرمانہ فعل قرار دیتا ہے بلکہ مومنوں کو جابجا صبر کا حکم دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ لا یعنی تیرا دشمن جو تجھ سے بدی کرتا ہے اس کا مقابلہ نیکی کے ساتھ کر اگر تو نے ایسا کیا تو وہ تیرا ایسا دوست ہو جائے گا کہ گویا رشتہ دار بھی ہے اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے وَالْكُظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ یعنی مومن وہ ہیں جو غصہ کھا جاتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ عفو اور درگذر سے پیش آتے ہیں اور اگر چہ انجیل میں بھی عضو اور درگذر کی تعلیم ہے جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مگر وہ یہودیوں تک محدود ہے دوسروں سے حضرت عیسی نے اپنی ہمدردی کا کچھ واسطہ نہیں رکھا اور صاف طور پر فرما دیا کہ مجھے بجز بنی اسرائیل کے دوسروں سے کچھ غرض نہیں خواہ وہ غرق ہوں خواہ نجات پاویں مگر قرآن شریف نے یہ فرمایا قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيعًا ت یعنی اے تمام انسا نو ! جو زمین پر رہتے ہو میں سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں نہ کسی خاص قوم کی طرف اور سب کی ہمدردی میرا مقصد ہے۔ ایسا ہی احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کی نسبت یہ خبر دی ہے کہ جب آخری زمانہ میں مسیح موعود آئے گا تو وہ دنیا میں صلح کاری کا پیغام دے گا اور جنگ موقوف کرے گا یعنی ملا لوگوں کی غلط کاریوں سے جو دینی جنگ کئے جائیں گے ان کی رسم دور کر دے گا۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے جو حدیث کی کتابوں میں سے اول درجہ کی سمجھی جاتی ہے۔ حدیث کے لفظ یہ ہیں ۔ يضــع الـــحـــرب ۔ اس حدیث میں یہ پیشگوئی ہے کہ اسلام میں آخری زمانہ میں غلطی کے طور پر بنام نہاد دین کی لڑائیاں (۲۵) شروع ہو جائیں گی یا جاہل سرحدی جو درندوں کی طرح ہیں کسی عیسائی وغیرہ کا خون کرنا حم السجدة : ۳۵ ۲ ال عمران : ۳۱۳۵ الاعراف : ۱۵۹