چشمہٴ معرفت — Page 396
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹۶ چشمه معرفت داخل ثواب سمجھیں گے اور غازی کہلائیں گے مگر مسیح موعود جب آئے گا تو صاف طور پر لوگوں کو سنا دے گا کہ دین کے معاملہ میں لڑائی کرنا جائز نہیں“ اور یہ حدیث نہایت درجہ پر صحیح ہے کیونکہ جب کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو جبراً پھیلانے کے لئے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ وہ صرف دفاعی جنگ تھی اس لئے کہ جنہوں نے مسلمانوں اور اُن کے بچوں اور عورتوں کو قتل کیا تھا اور قتل سے باز نہیں آتے تھے اور حد سے بڑھ گئے تھے اُن کو قتل کرنے کا حکم تھا ہاں پھر بھی اس قدر رعایت رکھی گئی تھی کہ جس کو دین اسلام کی سچائی سمجھ آ جائے اور وہ برغبت خود اسلام میں داخل ہونا چاہے اُس کو اس قصاص سے معافی دی جاتی تھی کیونکہ اس زمانہ میں بباعث سخت مصائب کے اسلام لا نا مرنے کے برابر تھا۔ پس جو شخص اسلام قبول کرتا تھا وہ گویا ایک قسم کی موت اپنے لئے پسند کرتا تھا اور اس طرح پر اسلام لانا سزائے موت کے قائم مقام ہو جاتا تھا۔ غرض یہ خیالات بھی کہ گویا کسی زمانہ میں کوئی مسیح اور مہدی اس غرض سے آئے گا کہ تا کافروں سے جنگ کر کے دین اسلام کو پھیلا دے۔ یہ خیالات اس قدر بیہودہ اور لغو ہیں کہ خود قرآن شریف ان کے رڈ کرنے کے لئے کافی ہے۔ جس دین کے ہاتھ میں ہمیشہ اور ہر زمانہ میں آسمانی معجزات اور نشان موجود ہیں اور حکمت اور حق سے بھرا ہوا ہے اُس کو دین پھیلانے کے لئے زمینی ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے۔ اُس کا جنگ خدا کی چمکدار تائیدوں کے ساتھ ہے نہ لوہے کی تلوار کے ساتھ ۔ ۲۲ کاش دیوانہ طبع مکہ کے کافر اسلام کو تلوار سے نابود کرنا نہ چاہتے تا خدا یہ طریق پسند نہ کرتا کہ وہ تلوار سے ہی مارے جائیں۔ پس جبکہ یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً دین اسلام پھیلانے کے لئے کوئی جنگ نہیں کیا بلکہ کافروں کے بہت سے