چشمہٴ معرفت — Page 394
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹۴ چشمه معرفت (۲۳) نہ کرے اور منع کر دے کہ اُن کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ کوئی اسلامی سپہ سالا کسی قوم کے مقابلہ کے لئے مامور ہوتا تھا تو اُس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور فقراء کے خلوت خانوں سے تعرض نہ کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصب کے طریقوں سے دور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گر جاؤں اور یہودیوں کے معبدوں کا ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے ہاں البتہ اس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دے دیا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے الا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمُ بَدَءُ وَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ( سورة التوبة ) وَإِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا۔ دیکھو سورۃ الانفال الجز ونمبر ۱۰ ( ترجمہ ) کیا تم ایسی قوم سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور چاہا کہ رسول خدا کو جلا وطن کر دیں اور انہوں نے ہی پہلے تمہیں قتل کرنا شروع کیا اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ یعنی تم اس خیال سے کیوں ڈرتے ہو کہ ہم بہت ہی تھوڑے ہیں اور کفار شمار میں بہت ہیں ہم کیوں کر اُن سے لڑ سکتے ہیں۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا سے یعنی جس شخص نے ایسے شخص کو قتل کیا کہ اُس نے کوئی ناحق کا خون نہیں کیا تھا یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا جو نہ بغاوت کے طور پر امن عامہ میں خلل ڈالتا تھا اور نہ زمین میں فساد پھیلاتا تھا تو اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا یعنی بے وجہ ایک انسان کو قتل کر دینا خدا ۲۴) کے نزدیک ایسا ہے کہ گویا تمام بنی آدم کو ہلاک کر دیا۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہ بے وجہ کسی انسان کا خون کرنا کس قد را سلام میں جرم کبیر ہے۔ التوبة : ١٣ الانفال : ۶۲ المائدة : ٣٣