چشمہٴ معرفت — Page 392
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹۲ چشمه معرفت آتے ہیں اور خدا حکم دیتا ہے کہ مومن بھی کافروں کا مقابلہ کریں کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور خدا اُن کی مدد پر قدرت رکھتا ہے یعنی اگر چہ تھوڑے ہیں مگر خدا اُن کی مدد پر قادر ہے۔ یہ قرآن شریف میں وہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ کی اجازت دی گئی ۔ آپ خود سوچ لو کہ اس آیت سے کیا نکلتا ہے۔ کیا لڑنے کے لئے خود سبقت کرنا یا مظلوم ہونے کی حالت میں اپنے بچاؤ کے لئے بیجوری مقابلہ کرنا۔ ہمارے مخالف بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ آج ہمارے ہاتھ میں وہی قرآن ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شائع کیا تھا۔ پس اُس کے اس بیان کے مقابل پر جو کچھ بر خلاف اس کے بیان کیا جائے وہ سب جھوٹ اور افترا ہے ۔ مسلمانوں کی قطعی اور یقینی تاریخ جس کتاب سے نکلتی ہے وہ قرآن شریف ہے۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن شریف یہی بیان کرتا ہے کہ مسلمانوں کو لڑائی کا اُس وقت حکم دیا گیا تھا جب وہ ناحق قتل کئے جاتے تھے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں مظلوم ٹھیر چکے تھے اور ایسی حالت میں دو صورتیں تھیں یا تو خدا کافروں کی تلوار سے اُس کو فنا کر دیتا اور یا مقابلہ کی اجازت دیتا اور وہ بھی اس شرط سے کہ آپ اُن کی مدد کرتا کیونکہ اُن میں جنگ کی طاقت ہی نہیں تھی۔ اور پھر ایک اور آیت ہے جس میں خدا نے اس اجازت کے ساتھ ایک اور قید بھی لگادی ہے اور وہ آیت سیپارہ دوم سورۃ البقرۃ میں ہے اور اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ جو لوگ تمہیں قتل کرنے کے لئے آتے ہیں اُن کا دفع شر کے لئے مقابلہ تو کرو مگر کچھ زیادتی نہ کرو اور وہ آیت یہ ہے وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ یعنی خدا کی راہ میں اُن لوگوں کے ساتھ لڑ و جولڑنے میں سبقت کرتے ہیں اور تم پر چڑھ چڑھ کے آتے ہیں مگر اُن پر زیادتی نہ کرو اور تحقیقاً یا درکھو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور پھر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف پارہ اٹھائیں سورۃ الممتحنہ البقرة : ١٩١