چشمہٴ معرفت — Page 393
۳۹۳ روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت میں فرمایا ہے لَا يَنْكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ (۲۲) الْمُقْسِطِينَ ۔ ترجمہ۔ یعنی جن لوگوں نے تمہارے دین کو نابود کرنے کی غرض سے تمہارے قتل کرنے کے لئے چڑھائی نہیں کی اور تمہیں اپنے وطن سے نہیں نکالا خدا تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ تم اُن سے احسان کرو اور اپنے مال کا کوئی حصہ اُن کو دے دو اور معاملات میں اُن سے انصاف کا برتاؤ کرو اور خدا اُن لوگوں سے پیار کرتا ہے جو اپنے دشمنوں سے بھی احسان اور مروت اور انصاف سے پیش آتے ہیں خاص کر ایسے دشمن جو بہت بہت دکھ دے چکے ہوں۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے یعنی پارہ و ہم سورہ تو بہ میں۔ وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلْمَ اللهِ ثُمَّ ابْلِغْهُ مَا مَنَا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ کے یعنی اگر لڑائی کے ایام میں کوئی شخص مشرکوں میں سے خدا کے کلام کو سننا چاہے تو اُس کو پناہ دے دو جب تک کہ وہ خدا کے کلام کوسن لے اور پھر اس کو اپنے امن کی جگہ میں پہنچا دو کیونکہ وہ ایک جاہل قوم ہے اور نہیں جانتے کہ وہ کس سے لڑائی کر رہے ہیں۔ اور پھر سورہ حج پارہ سترہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْلَا دَفْعُ الله النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا ( ترجمہ ) یعنی اگر خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہ ہوتی کہ بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرتا تو ظلم کی نوبت یہاں تک پہنچتی کہ گوشہ گزینوں کے خلوت خانے ڈھائے جاتے اور عیسائیوں کے گرجے مسمار کئے جاتے اور یہودیوں کے معبد نابود کئے جاتے اور مسلمانوں کی مسجدیں جہاں کثرت سے ذکر خدا ہوتا ہے منہدم کی جاتیں۔ اس جگہ خدا تعالیٰ یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ان تمام عبادت خانوں کا میں ہی حامی ہوں اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلاً کسی عیسائی ملک پر قبضہ کرے تو اُن کے عبادت خانوں سے کچھ تعرض ا الممتحنة : ٩ التوبة : ٦ الحج : ۴۱