چشمہٴ معرفت — Page 391
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹۱ چشمه معرفت تھا اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں ہر گز نہ نکلتا “ ۔ تب اس وقت بعض پہلے نوشتوں کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ :۔ وہ نبی اپنے وطن سے نکالا جائے گا“ مگر پھر بھی کفار نے اسی قدر پر صبر نہ کیا اور تعاقب کر کے چاہا کہ بہر حال قتل کر دیں لیکن خدا نے اپنے نبی کو اُن کے شر سے محفوظ رکھا اور آنجناب پوشیدہ طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف چلے آئے اور پھر بھی کفار اس تدبیر میں لگے رہے کہ (۲۰) مسلمانوں کو بکلی نیست و نابود کر دیں اور اگر خدا تعالی کی حمایت اور نصرت نہ ہوتی تو اُن دنوں میں اسلام کا قلع قمع کرنا نہایت سہل تھا کیونکہ دشمن تو کئی لاکھ آدمی تھا مگر مکہ سے ہجرت کرنے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ستر سے زیادہ نہ تھے اور وہ بھی متفرق ملکوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے ۔ پس اس حالت میں ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ جبر کرنے کی کونسی صورت تھی غرض جب کافروں کا ظلم نہایت درجہ تک پہنچ گیا اور وہ کسی طرح آزار دہی سے باز نہ آئے اور انہوں نے اس بات پر مصمم ارادہ کر لیا کہ تلوار کے ساتھ مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں تب اللہ تعالی نے اپنے نبی کو دفاعی جنگ کے لئے اجازت فرمائی یعنی اس طرح کی جنگ جس کا مقصد صرف حفاظت خود اختیاری اور کفار کا حملہ دفع کرنا تھا جیسا کہ قرآن شریف میں تصریح سے اس بات کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ آیت یہ ہے إِنَّ اللهَ يُدْفِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَانٍ كَفُورٍ أَذِنَ لِلَّذِينَ | يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ( ترجمہ ) خدا کا ارادہ ہے کہ کفار کی بدی اور ظلم کو مومنوں سے دفع کرے یعنی مومنوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دے تحقیقا خدا خیانت پیشہ ناشکر لوگوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ خدا اُن مومنوں کو لڑنے کی اجازت دیتا ہے جن پر کا فرقتل کرنے کے لئے چڑھ چڑھ کے الحج: ٤٠،٣٩