چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 390

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۹۰ چشمه معرفت کچھ نہ کچھ صحت نیست دل میں رکھ لیتا ہے کیونکہ اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔ پس مسلمانوں کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں کہ دونوں طرف اُن کے پیارے ہوتے ہیں۔ بہر حال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الہی ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اسلام میں کافروں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم ہے تو پھر کیونکر اسلام صلح کاری کا مذہب ٹھیر سکتا ہے پس واضح ہو کہ قرآن شریف 19) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ تہمت ہے اور یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ دین اسلام میں جبرا دین پھیلانے کے لئے حکم دیا گیا تھا کسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں تیرہ برس تک سخت دل کافروں کے ہاتھ سے وہ مصیبتیں اٹھائیں اور وہ دُکھ دیکھے کہ بجز ان برگزیدہ لوگوں کے جن کا خدا پر نہایت درجہ بھروسہ ہوتا ہے کوئی شخص اُن دکھوں کی برداشت نہیں کرسکتا اور اس مدت میں کئی عزیز صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت بے رحمی سے قتل کئے گئے اور بعض کو بار بار زدو کوب کر کے موت کے قریب کر دیا اور بعض دفعہ ظالموں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر پتھر چلائے کہ آپ سر سے پیر تک خون آلودہ ہو گئے اور آخر کار کافروں نے یہ منصوبہ سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے اس مذہب کا فیصلہ ہی کر دیں ۔ تب اس نیت سے اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور خدا نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم اس شہر سے نکل جاؤ ۔ تب آپ اپنے ایک رفیق کے ساتھ جس کا نام ابو بکر تھا نکل آئے اور خدا کا یہ معجزہ تھا کہ باوجود یکہ صد ہا لوگوں نے محاصرہ کیا تھا مگر ایک شخص نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا اور آپ شہر سے باہر آ گئے اور ایک پتھر پر کھڑے ہوکر مکہ کو مخاطب کر کے کہا کہ ” اے مکہ تو میرا پیارا شہر اور پیارا وطن