چشمہٴ معرفت — Page 389
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸۹ چشمه معرفت جس قدر انجیل میں ہے وہ سب صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے دوسروں سے کچھ غرض نہیں ایسا ہی بجز قرآن شریف کے ہر ایک قوم کی الہامی کتاب جو کچھ احسان اور مروت اور در گذر کی تعلیم دیتی ہے وہ اُسی قوم تک محدود ہے اور ہر ایک پہلی قوموں کی الہامی کتابیں بجز اپنی قوم کے دوسرے لوگوں کی ہمدردی سے واسطہ نہیں رکھتیں جیسا کہ انجیل شریف کی بھی ساری ہمدردی ساری در گذرسارے احسان کی تعلیم محض بنی اسرائیل کے لئے ہے دوسروں سے کچھ بھی غرض نہیں اور ہمارے پیارے ہموطن آریہ صاحبان اس کلمہ حق سے ناراض نہ ہوں کہ وید مقدس کی تعلیم سے یہ بات موزوں ہی نہیں کہ اس میں یہ حکم دیا جاتا کہ لوگ اپنے اپنے قصورواروں کے گناہ بخشا کریں کیونکہ جس حالت میں خود پر میشر ایک گنہ پر (۱۸) کروڑ ہا جونوں میں ڈالتا رہتا ہے تو پھر کس منہ سے وہ لوگوں کو یہ نصیحت دے سکتا ہے کہ تم اپنے قصور واروں کے گنہ بخش دیا کرو۔ اور وید کے رو سے دوسرے نبیوں کی تو ہین بھی کرنا شاید ثواب میں داخل ہے۔ شاید کسی صاحب کے دل میں یہ بھی خیال آوے کہ مسلمان بھی مباحثہ کے وقت نا مناسب الفاظ دوسری قوموں کے بزرگوں کی نسبت استعمال کرتے ہیں پس یادر ہے کہ وہ قرآنی تعلیم سے باہر چلے جاتے ہیں اور بسا اوقات اُن کی اس بدتہذیبی کا موجب وہی لوگ ہو جاتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں مثلاً ظاہر ہے کہ مسلمان لوگ کس قدر حضرت عیسی علیہ السلام کو عزت اور تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اُن کو خدا کا پیارا رسول اور برگزیدہ یقین رکھتے ہیں لیکن جب ایک متعصب پادری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی سے باز نہیں آتا اور زبان درازی میں حد سے بڑھ جاتا ہے تو الزامی طور پر ایک مسلمان جس کو اس پادری کے کلمات سے کچھ درد پہنچا ہے ایسا جواب دیتا ہے کہ اس پادری کو بُرا معلوم ہو مگر پھر بھی وہ طریق ادب سے باہر نہیں جاتا